5

طویل عرصے سے زیرِ حراست ملزمان کے مقدمات دو ماہ میں نمٹانے کا حکم

**لاہور (ایچ آراین ڈبلیو):** چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے **تین سال سے زائد عرصے سے زیرِ حراست زیرِ سماعت ملزمان** کے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر سماعت کرکے **دو ماہ کے اندر نمٹانے** کی ہدایت کردی۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم کی ہدایت پر پنجاب کے **28 اضلاع کے سیشن ججز** کو مراسلہ جاری کردیا گیا ہے، جس میں تین سال سے زائد عرصے سے زیرِ حراست ملزمان کے زیرِ سماعت مقدمات کو فاسٹ ٹریک بنیادوں پر نمٹانے کا حکم دیا گیا ہے۔

مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ ایسے مقدمات کی ترجیحی بنیادوں پر سماعت کی جائے اور مقررہ مدت کے اندر فیصلے کیے جائیں۔ پنجاب کے تمام سیشن ججز کو ہدایت پر عملدرآمد یقینی بنانے کا پابند کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے **تین سال سے زائد عرصے سے زیرِ حراست ملزمان کے مقدمات سے متعلق عملدرآمد رپورٹ** بھی طلب کرلی ہے۔

### بروقت انصاف بنیادی حق ہے

**ایچ آراین ڈبلیو کے مطابق** طویل عرصے تک زیرِ حراست رہنے والے افراد کے مقدمات کو غیر ضروری طور پر التوا کا شکار ہونے سے بچانا حقِ انصاف اور منصفانہ ٹرائل کے بنیادی اصولوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔ کسی شخص کو مقدمے کے حتمی فیصلے کے بغیر غیر معمولی طویل مدت تک قید میں رکھنا انسانی حقوق کے حوالے سے بھی سنجیدہ سوالات پیدا کرسکتا ہے۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی یہ ہدایت زیرِ حراست ملزمان کو بروقت انصاف کی فراہمی، مقدمات کے غیر ضروری التوا کے خاتمے اور عدالتی نظام میں کیسز کے بیک لاگ کو کم کرنے کی جانب اہم اقدام قرار دیا جا سکتا ہے۔

**Support HRNW:** انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، انصاف اور آزاد صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں: [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

**Disclaimer:** یہ خبر فراہم کردہ عدالتی معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ کسی بھی ملزم کو عدالت سے جرم ثابت ہونے تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے اور ہر زیرِ حراست شخص کو منصفانہ ٹرائل اور قانونی حقوق حاصل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں