5

آئی او او جے کے میں 5 ہزار سے زائد سرکاری اسکول ختم، تعلیم کے حق پر انسانی حقوق کے سوالات

**سرینگر (ایچ آراین ڈبلیو)** — بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران **5 ہزار 89 سرکاری اسکولوں کی کمی** نے نہ صرف خطے کے تعلیمی نظام بلکہ بچوں کے **بنیادی حقِ تعلیم** کے حوالے سے بھی اہم انسانی حقوق کے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2014-15 میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں سرکاری اسکولوں کی تعداد **23 ہزار 874** تھی، جو 2023-24 میں کم ہو کر **18 ہزار 785** رہ گئی۔ اس طرح ایک دہائی کے دوران سرکاری اسکولوں میں **21 فیصد سے زائد کمی** ریکارڈ کی گئی۔

تعلیم بنیادی انسانی حق ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو بلاامتیاز قابلِ رسائی، معیاری اور محفوظ تعلیمی سہولیات فراہم کرے۔ ایسے میں سرکاری اسکولوں کی مسلسل کمی، خصوصاً دور دراز اور کم وسائل رکھنے والی آبادیوں میں، بچوں کے تعلیم تک مساوی رسائی کے حق کے حوالے سے تشویش پیدا کرتی ہے۔

سرکاری رپورٹ کے مطابق 2024-25 کے دوران **146 سرکاری اسکول ایسے تھے جہاں ایک بھی طالب علم داخل نہیں تھا**، تاہم ان اداروں میں مجموعی طور پر **61 اساتذہ** تعینات تھے۔

دوسری جانب **ایک ہزار 371 اسکول صرف ایک استاد** کے ذریعے چلائے جا رہے تھے، جہاں مجموعی طور پر **32 ہزار 303 طلبہ** زیر تعلیم تھے۔ ماہرینِ تعلیم کے مطابق ایک استاد پر بڑی تعداد میں طلبہ کی ذمہ داری عائد ہونا تعلیم کے معیار اور بچوں کی مؤثر تعلیمی تربیت کو متاثر کر سکتا ہے۔

بھارتی نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ٹرانسفارمنگ انڈیا (NITI Aayog) کی رپورٹ میں اسکولوں کی تعداد میں کمی کو کم طلبہ والے اداروں کی تنظیم نو اور انضمام سے جوڑا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد دستیاب وسائل کا بہتر استعمال تھا۔

تاہم انسانی حقوق کے تناظر میں سوال یہ ہے کہ اسکولوں کے انضمام یا بندش کے نتیجے میں **بچوں کے لیے تعلیم تک رسائی کا فاصلہ، اخراجات اور دیگر رکاوٹیں** تو نہیں بڑھ رہیں۔ خاص طور پر غریب، دیہی اور دور دراز علاقوں کے بچوں کے لیے سرکاری اسکول اکثر تعلیم کا واحد قابلِ رسائی ذریعہ ہوتے ہیں۔

**146 خالی اسکولوں، 61 تعینات اساتذہ اور ایک استاد پر مشتمل 1,371 اسکولوں** کے اعداد و شمار اس امر کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں کہ تعلیمی وسائل کی منصوبہ بندی اور تقسیم میں بچوں کے بہترین مفاد اور مساوی حقِ تعلیم کو بنیادی ترجیح دی جانی چاہیے۔

انسانی حقوق کے اصولوں کے تحت کسی بھی تعلیمی پالیسی کا جائزہ لیتے وقت صرف انتظامی یا مالیاتی کارکردگی نہیں بلکہ **بچوں کے حقِ تعلیم، مساوات، عدم امتیاز اور معیاری تعلیم تک مؤثر رسائی** کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

آئی او او جے کے میں سرکاری اسکولوں کی تعداد میں نمایاں کمی اور تعلیمی سہولیات سے متعلق یہ اعداد و شمار اس بات کی ضرورت اجاگر کرتے ہیں کہ تعلیمی پالیسیوں کے انسانی حقوق پر اثرات کا شفاف جائزہ لیا جائے اور ہر بچے کے لیے معیاری تعلیم تک مساوی رسائی یقینی بنائی جائے۔

### Support HRNW

انسانی حقوق، آزادی، انصاف اور عوامی مسائل پر آزادانہ صحافت کو فروغ دینے کے لیے **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کا ساتھ دیں۔ آپ کی معاونت انسانی حقوق کی آواز کو دنیا تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

**HRNW کو سپورٹ کرنے کے لیے:**
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

### Disclaimer

**ڈس کلیمر:** اس خبر میں شامل اعداد و شمار دستیاب سرکاری رپورٹس اور ذرائع کی بنیاد پر پیش کیے گئے ہیں۔ HRNW تمام دعووں کی آزادانہ تصدیق کا دعویدار نہیں۔ انسانی حقوق سے متعلق تجزیہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔ قارئین مزید تصدیق کے لیے متعلقہ سرکاری اور مستند ذرائع سے رجوع کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں