**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)** — اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایئرپورٹس پر مسافروں کو بلاجواز آف لوڈ کیے جانے کے معاملے پر اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کسی شہری کو **قانونی جواز کے بغیر بیرونِ ملک سفر سے روکنا آئینی حقوق کے منافی** ہے۔
جسٹس **ارباب محمد طاہر** نے کراچی ایئرپورٹ سے آف لوڈ کیے گئے مسافروں سے متعلق آئینی درخواستوں، جن میں **W.P. No. 1585، 1587/2026 اور 5338/2025** شامل ہیں، پر مشترکہ فیصلہ جاری کیا۔
### بین الاقوامی سفر بنیادی حق، علاقائی تعصب ناقابلِ قبول
عدالت نے قرار دیا کہ **بین الاقوامی سفر کا حق** شخصی آزادی اور زندگی کے بنیادی حق سے منسلک ہے۔ فیصلے میں **آئین کے آرٹیکل 4، 25 اور 33** کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ تمام شہری قانون کے سامنے برابر ہیں اور کسی شہری کے ساتھ اس کے ضلع، صوبے یا علاقائی شناخت کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں کیا جاسکتا۔
عدالت کے مطابق کسی شہری کو محض اس کے علاقے سے تعلق کی بنیاد پر مشکوک سمجھنا یا اضافی چھان بین کے نام پر ایئرپورٹ پر روکنا آئینی اصولوں کے خلاف ہے۔
### ایف آئی اے کے اختیارات کی قانونی حدود
عدالت نے **ایف آئی اے اور امیگریشن حکام** کے اختیارات کی حدود واضح کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگر کسی مسافر کے پاس **پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس کی قانونی تصدیق، پاسپورٹ اور متعلقہ انڈورسمنٹ** موجود ہو تو محض اسی بنیاد پر اسے سفر سے روکنے کے لیے الگ قانونی جواز درکار ہوگا۔
فیصلے کے مطابق ایف آئی اے کا امیگریشن عملہ پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس کے فیصلے پر اپیلٹ اتھارٹی کے طور پر کام نہیں کرسکتا اور اسے اپنے اختیارات قانون کے دائرے میں استعمال کرنا ہوگا۔
### آف لوڈنگ کے معاملے پر ادارہ جاتی احتساب کی ضرورت
عدالت نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ اگر کسی مسافر کے دستاویزات یا ورک پرمٹ کی جانچ میں کوئی خامی رہ گئی ہو تو اس کی تمام تر ذمہ داری مسافر پر عائد نہیں کی جانی چاہیے۔
عدالت کے مشاہدے کے مطابق ایسے معاملات میں متعلقہ **پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس یا اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر** کی ممکنہ غفلت کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے، تاکہ کسی ادارہ جاتی ناکامی کا بوجھ صرف شہری کو آف لوڈ کرکے اس پر نہ ڈالا جائے۔
### وفاقی حکومت کو عملدرآمد کی ہدایت
اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواستیں منظور کرتے ہوئے فیصلے کی مصدقہ نقول **سیکرٹری وزارتِ داخلہ، سیکرٹری وزارتِ اوورسیز پاکستانیز اینڈ ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ اور ڈی جی ایف آئی اے** کو فوری عملدرآمد کے لیے ارسال کرنے کی ہدایت کی ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ اگر حکومت انسانی اسمگلنگ، گداگری یا دیگر مسائل سے نمٹنے کے لیے موجودہ قانونی فریم ورک کو ناکافی سمجھتی ہے تو شہریوں کو ایئرپورٹس پر بلاجواز روکنے کے بجائے **امیگریشن قوانین میں واضح اور مناسب قانونی ترامیم** کی جائیں۔
### انسانی حقوق کا پہلو
یہ فیصلہ **آزادیٔ نقل و حرکت، شخصی آزادی، مساوات اور قانون کے مطابق سلوک کے بنیادی حقوق** کے حوالے سے اہم قرار دیا جاسکتا ہے۔ ایئرپورٹس پر کسی شہری کو بغیر واضح قانونی بنیاد کے بیرونِ ملک سفر سے روکنا نہ صرف اس کی عزتِ نفس اور ذہنی سکون کو متاثر کرسکتا ہے بلکہ اس کے **روزگار، معاشی مواقع اور خاندان کے حقوق** پر بھی اثر انداز ہوسکتا ہے۔
انسانی حقوق کے تناظر میں ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ غیر قانونی سفر، انسانی اسمگلنگ اور دیگر جرائم کی روک تھام ضرور کریں، تاہم یہ اقدامات **قانونی اختیار، شفاف طریقہ کار، غیر امتیازی سلوک اور شہریوں کے بنیادی حقوق** کو ملحوظ رکھتے ہوئے کیے جائیں۔
**Support HRNW:**
انسانی حقوق، آزادیِ اظہار، انصاف اور آزاد صحافت کے فروغ کے لیے **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کی حمایت کریں۔
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
**Disclaimer:**
یہ خبر اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے اور دستیاب عدالتی معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ فیصلے میں درج قانونی نکات اور مشاہدات عدالت کے حتمی حکم کا حصہ ہیں، جبکہ متعلقہ اداروں کی جانب سے مزید قانونی یا انتظامی اقدامات ان کے اختیار میں ہوں گے۔


