5

سرسید یونیورسٹی میں گریڈ 1 سے 6 کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا تاریخی فیصلہ

کراچی، (ایچ آراین ڈبلیو) – سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے گریڈ ایک(1) سے چھ (6) تک کے تمام ملازمین کے پے سکیلز ریویژن کا اعلان کردیا ہے۔۔ پے سکیلز ریویژن کے بعد مذکورہ ملازمین کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوجائے گا اور ان کے مالی معاملات کافی حد تک قابل اطمینان ہوجائیں گے۔ چانسلر محمد اکبر علی خان نے کہا کہ پے اسکیل ریویژن کا معاملہ گزشتہ گیارہ سال سے زیرِ التوا تھا۔۔اورذاکر علی خان کے منشور میں یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ ہم اس مسئلے کو ترجیحی بنیاد پر حل کریں گے۔اور آج ہم نے اپنا وعدہ پورا کر دکھایا۔ ہم ملازمین کے مسئلوں کو صرف سنتے ہی نہیں بلکہ انھیں حل کرنے کے لیے عملی اقدامات بھی کرتے ہیں اور حالیہ اقدام ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے نئی انتظامیہ کی لگن کو ظاہر کرتا ہے۔فی الحال ایک سے چھ گریڈ کے ملازمین کے پے اسکیل پر نظرثانی کی گئی ہے، مگر مرحلہ وار گریڈ سات اور اس سے اوپر کے گریڈ کے اسٹاف کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے گا۔پے اسکیل کی ریویژن کے نتیجے میں ملازمین یکسوئی اور پوری توجہ کے ساتھ کام میں دلچسپی لیں گے اور سرسید یونیورسٹی کی ترقی و کامیابی کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔
سرسید یونیورسٹی کے چانسلر اکبر علی خان نے مالیاتی استحکام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خسارہ سے پاک بجٹ اسی صورت میں ممکن ہے جب یا تو آمدنی میں اضافہ ہو یا اخراجات میں کمی کی جائے۔ ہم نے دونوں جہتوں پر کام کیا اور اس قابل ہوئے کہ پے اسکیل پر نظر ثانی کرسکیں۔۔ آمدنی میں بھی اضافہ ہو کیونکہ گزشتہ سال ریکارڈ داخلے ہوئے اور رواں سال بھی امید ہے کہ گزشتہ سال کے داخلوں کا ریکارڈ ٹوٹے گا۔اخراجات میں بھی خاطرخواہ کمی کی گئی۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر افضل حق نے یونیورسٹی کو درپیش فنڈز کی کمی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کی ترقی و کامیابی کے لئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ سرسید یونیورسٹی ایک نجی جامعہ ہے جس کو چلانے کے لئے ہمیں خود فنڈز کے انتظامات کرنے ہوتے ہیں۔جیسے جیسے یونیورسٹی کے وسائل بڑھیں گے۔۔ہم اپنے ملازمین کو مزید سہولیات و مراعات فراہم کرتے رہیں گے۔
آئی ٹی کے ڈائریکٹر، ڈاکٹر عبدالمعید خان نے موجودہ اقدامات کو ”ملازمین کے فائدے کے لیے ایک تاریخی کوشش” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تبدیلیاں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے تاخیر کا شکار تھیں۔ انہوں نے گزشتہ انتظامی معاہدوں سے پیدا ہونے والی مشکلات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا، ”ہم اگرچہ پچھلی انتظامیہ کے کئے گئے معاہدوں سے اتفاق نہیں کرتے مگر ان کو پورا کررہے ہیں۔ہم غیر جانبداری اور پوری شفافیت کے ساتھ تمام تر چیلنجوں کے باوجود ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتے رہیں گے۔۔لیکن اب ملازمین کا بھی فرض ہے کہ وہ پوری دیانت داری اور ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں۔وقت کی پابندی کا خاص خیال رکھیں۔ اور یونیورسٹی کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے اپنے شعبہ جات کے سربراہوں کے ساتھ مل کر کام کریں۔
تقریب کے شرکاء میں رجسٹرار کموڈور (ر) سید سرفراز علی، ستارہ امتیاز (ملٹری)، عدیل احمد، عامر حسین، ممتاز میمن، عبید مغل، ڈاکٹر کاشف شیخ و دیگر شامل تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں