**غزہ (ایچ آراین ڈبلیو):** جنگ اور مسلسل انسانی بحران نے غزہ میں زندگی کی بنیادی ضروریات کو بھی انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ 46 سالہ رباب کے ہاتھ میں موجود ایک معمولی سا لائٹر آج اس کے لیے قیمتی ترین اثاثوں میں شمار ہوتا ہے۔
غزہ میں کھانا پکانے اور بچوں کے لیے دودھ گرم کرنے کے لیے آگ جلانا بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ درخت کاٹ کر لکڑیاں جمع کی جاتی ہیں، انہی لکڑیوں سے آگ جلائی جاتی ہے اور اسی پر گھروں میں دستیاب محدود خوراک تیار کی جاتی ہے۔
مگر آگ جلانے کے لیے لائٹر درکار ہوتا ہے، کیونکہ دستیاب معلومات کے مطابق ماچس کی ڈبیاں بھی غزہ میں داخل ہونے والی ممنوع یا محدود اشیا میں شامل ہیں۔
ایک وقت تھا جب ایک ڈالر میں تین لائٹر دستیاب ہوتے تھے، تاہم اب ایک لائٹر کی قیمت **30 ڈالر تک** پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ پانچ بچوں کی ماں رباب کا لائٹر بھی خاصا پرانا ہے۔ نیا لائٹر خریدنے کی استطاعت نہ ہونے کے باعث اس نے حال ہی میں **12 ڈالر خرچ کرکے اسی لائٹر کی مرمت** کروائی۔
غزہ میں بنیادی ضروریات کی اس شدید قلت نے عام شہریوں کی زندگی کو ناقابلِ تصور مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ ایک معمولی لائٹر کی قیمت اور اس کی حفاظت کی مجبوری اس انسانی بحران کی شدت کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
### انسانی حقوق کا پہلو
**HRNW کے مطابق** غزہ کی صورتحال شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق، خصوصاً خوراک، پانی، صحت، رہائش اور دیگر ضروریاتِ زندگی تک رسائی کے حوالے سے سنگین انسانی بحران کی عکاسی کرتی ہے۔
عام شہریوں کو ایسی صورتحال میں زندگی گزارنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے جہاں بچوں کے لیے دودھ گرم کرنے یا کھانا پکانے کے لیے آگ جلانا بھی ایک مشکل اور مہنگا عمل بن جائے۔ انسانی امداد کی بلاتعطل اور محفوظ رسائی، بنیادی ضروریات کی فراہمی اور شہریوں کے تحفظ کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
**Support HRNW:** انسانی حقوق، آزاد صحافت اور دنیا بھر کے انسانی بحرانوں سے متعلق آگاہی کے فروغ کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں: [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
**Disclaimer:** یہ رپورٹ فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ قیمتوں اور اشیا کی دستیابی سے متعلق اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق ممکن نہ ہونے کی صورت میں انہیں دستیاب معلومات کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ HRNW انسانی حقوق اور شہریوں کے تحفظ کے اصولوں کی حمایت کرتا ہے۔


