**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** کیماڑی انویسٹی گیشن پولیس نے تکنیکی بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے صوبہ پنجاب کے ضلع لیہ سے موچکو کے علاقے میں فیضان عرف فیضی کو مبینہ طور پر قتل کرکے لاش جلانے کے کیس کے مرکزی ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن مسرور احمد جتوئی کے مطابق ملزمان نے اپریل کے دوران اپنے داماد فیضان عرف فیضی کو مبینہ طور پر قتل کرکے لاش جلا دی تھی، جو مکمل طور پر سوختہ حالت میں ملی تھی۔ بعد ازاں تلاش اور معلومات کی بنیاد پر مقتول کی شناخت فیضان عرف فیضی کے نام سے ہوئی۔
واقعے کا مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف تھانہ موچکو میں درج کیا گیا تھا۔ کیس کی تفتیش کے لیے انسپکٹر ارشد تنولی کی سربراہی میں خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی۔
پولیس کے مطابق تفتیشی ٹیم نے جدید طریقہ تفتیش اور تکنیکی ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے کیس کا معمہ حل کیا، جس کے بعد مقتول کے سسر **اکرم ولد نور زمان** اور سالے **عطاءاللہ ولد اکرم** کو گرفتار کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں مبینہ طور پر ملوث مرکزی ملزمان **جون عباس**، جو ایک سیکیورٹی ادارے کا اہلکار بتایا گیا ہے، اور اس کی اہلیہ **سمرین** گرفتاری سے بچنے کے لیے فرار ہوکر روپوش ہوگئے تھے۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن کے مطابق موچکو تفتیشی ٹیم نے تکنیکی بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو بھی گرفتار کرلیا۔ کارروائی انسپکٹر ارشد تنولی کی سربراہی میں پنجاب کے ضلع لیہ میں کی گئی۔
گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ پولیس کیس کے دیگر پہلوؤں اور واقعے کے محرکات کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
### انسانی حقوق اور قانون کا پہلو
**ایچ آراین ڈبلیو کے مطابق** سنگین جرائم کی تحقیقات میں جدید اور تکنیکی طریقہ تفتیش کا استعمال مؤثر ثابت ہوسکتا ہے، تاہم گرفتار افراد کے بنیادی قانونی حقوق، شفاف تفتیش اور منصفانہ ٹرائل کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔
تمام گرفتار افراد کو عدالت سے جرم ثابت ہونے تک **مبینہ ملزمان** تصور کیا جاتا ہے اور انہیں قانونی دفاع اور منصفانہ عدالتی کارروائی کا حق حاصل ہے۔
**Support HRNW:** انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، آزاد صحافت اور عوامی آگاہی کے فروغ کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں: [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
**Disclaimer:** یہ خبر پولیس حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات اور بیانات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ملزمان پر عائد الزامات عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں۔ HRNW غیر جانب دارانہ صحافت اور منصفانہ رپورٹنگ کے اصولوں کی پابندی کرتا ہے۔


