4

جنسی ہراسانی کیس: جونیئر کلرک ملازمت سے برطرف، 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد

اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)، وفاقی محتسب برائے تحفظ خواتین نے جنسی ہراسانی کے کیس میں پاکستان کونسل فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے جونیئر کلرک صدا حسین شاہ کو قصوروار قرار دیتے ہوئے ملازمت سے برطرف کرنے کا حکم دے دیا۔

وفاقی محتسب کے فیصلے کے مطابق ملزم پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے، جبکہ شکایت کنندہ خاتون کو 80 لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرنے اور 20 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کونسل فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں بطور اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکریٹری کام کرنے والی خاتون نے نومبر 2025 میں جنسی ہراسانی سے متعلق شکایت درج کرائی تھی۔

شکایت میں خاتون نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ 14 نومبر 2025 کو صدا حسین شاہ ان کے دفتر میں داخل ہوئے اور مبینہ طور پر نامناسب رویہ اختیار کرتے ہوئے نازیبا حرکات کیں۔

وفاقی محتسب نے کیس کی کارروائی اور دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد شکایت کنندہ کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے مذکورہ سزائیں اور مالی جرمانے عائد کیے۔

خواتین کے حقوق اور تحفظ کا پہلو:
ایچ آراین ڈبلیو کے مطابق کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی خواتین کے وقار، تحفظ اور مساوی روزگار کے حق کو متاثر کرتی ہے۔ ایسے معاملات میں متاثرہ افراد کو محفوظ شکایتی نظام، غیر جانب دارانہ تحقیقات اور بروقت انصاف کی فراہمی یقینی بنانا ضروری ہے، جبکہ ہر فریق کو قانونی کارروائی کے دوران مناسب قانونی حقوق بھی حاصل ہونے چاہئیں۔

Support HRNW: خواتین کے حقوق، کام کی جگہ پر تحفظ، انسانی وقار، مساوی مواقع اور قانون کی حکمرانی سے متعلق آزاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے Human Rights News Worldwide (HRNW) کو سپورٹ کریں۔

ڈس کلیمر: یہ خبر وفاقی محتسب کے فیصلے اور فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ مقدمے میں فریقین کے قانونی حقوق اور کسی ممکنہ اپیل کو متعلقہ قانونی فورم کے فیصلے کے مطابق دیکھا جائے گا۔ مزید عدالتی یا سرکاری پیش رفت سامنے آنے پر خبر کو اپ ڈیٹ کیا جاسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں