3

بلوچستان ہائیکورٹ کا زیارت پولیس حملے کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم، جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ سربراہ مقرر

کوئٹہ (ایچ آراین ڈبلیو) بلوچستان ہائیکورٹ نے زیارت میں ڈی آئی جی آفس کے قریب ہونے والے دہشت گرد حملے کی مکمل تحقیقات کے لیے تحقیقاتی کمیشن قائم کر دیا ہے۔ کمیشن واقعے سے قبل موصول ہونے والی ممکنہ اطلاعات، سیکیورٹی اقدامات اور حملے کے دوران موجود انتظامات کا جائزہ لے گا۔

تحقیقاتی کمیشن **بلوچستان ٹربیونل آف انکوائریز آرڈیننس 1969** کے تحت قائم کیا گیا ہے، جبکہ **جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ** کو کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

کمیشن حملے سے قبل موصول ہونے والی ممکنہ انٹیلی جنس اطلاعات اور ان پر کیے گئے اقدامات کا جائزہ لے گا، جبکہ دہشت گرد حملے کی روک تھام کے لیے اختیار کیے گئے سیکیورٹی انتظامات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

تحقیقاتی کمیشن حملے کے وقت موجود سیکیورٹی انتظامات، تعینات نفری، ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کی ذمہ داریوں اور مجموعی حفاظتی انتظامات کا تعین کرے گا۔

کمیشن حملے کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں کی شہادت اور دیگر جانی نقصان کے محرکات کا بھی جائزہ لے گا، جبکہ حملے سے قبل اور دوران موجودہ و سابق پولیس افسران اور متعلقہ اداروں کے کردار کا تعین کیا جائے گا۔

تحقیقاتی کمیشن سیکیورٹی انتظامات میں کسی بھی قسم کی **خامی، غفلت یا کوتاہی** کی نشاندہی کرے گا اور یہ بھی جائزہ لے گا کہ دستیاب معلومات کی بنیاد پر حملے کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات کیے گئے تھے یا نہیں۔

### ریکارڈ اور شواہد طلب کرنے کا اختیار

تحقیقاتی کمیشن پولیس اہلکاروں کی شہادت کے واقعے سے متعلق تمام دستیاب ریکارڈ اور دستاویزات طلب کرسکتا ہے۔ کمیشن متعلقہ اداروں، پولیس افسران اور دیگر ذمہ دار حکام سے ریکارڈ اور معلومات حاصل کرے گا، جبکہ ضرورت پڑنے پر کسی بھی شخص کو طلب کرکے اس کا بیان بھی قلمبند کرسکتا ہے۔

بلوچستان ہائیکورٹ نے تحقیقاتی کمیشن کو واقعے سے متعلق تمام متعلقہ ریکارڈ، دستاویزات اور شواہد پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

کمیشن عوام سے بھی اپیل کرے گا کہ واقعے سے متعلق اگر کسی شخص کے پاس کوئی اہم معلومات، دستاویزات یا شواہد موجود ہوں تو وہ انہیں تحقیقاتی کمیشن کے دفتر، عدالتِ عالیہ بلوچستان میں جمع کراسکتا ہے۔

### میڈیا رپورٹس کا بھی جائزہ لیا جائے گا

تحقیقاتی کمیشن واقعے سے متعلق اخبارات، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی رپورٹس کا بھی جائزہ لے گا۔ اس کے علاوہ متعلقہ اداروں سے واقعے کے حوالے سے تمام ضروری ریکارڈ اور معلومات حاصل کی جائیں گی۔

کمیشن اپنی کارروائی مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل کرے گا اور تحقیقات کے اختتام پر اپنی سفارشات اور حتمی رپورٹ مرتب کرے گا۔

تحقیقاتی کمیشن کو واقعے کے ذمہ داران اور غفلت کے مرتکب افراد کا تعین کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔ کمیشن مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سیکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے کے حوالے سے سفارشات بھی پیش کرے گا۔

### انسانی حقوق اور عوامی مفاد

دہشت گردی کے واقعات میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ایک سنگین قومی اور انسانی مسئلہ ہے۔ شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کے ذریعے واقعے کے محرکات، سیکیورٹی انتظامات اور ممکنہ غفلت کا تعین مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام اور شہریوں و قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے تحفظ کے لیے اہم ثابت ہوسکتا ہے۔

### HRNW کا مؤقف

**Human Rights News Worldwide (HRNW)** دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات، قانون کی بالادستی، شفاف تحقیقات اور انسانی جانوں کے تحفظ کو بنیادی عوامی مفاد سمجھتا ہے۔ کسی بھی واقعے کی غیر جانب دار تحقیقات اور ذمہ داران کا قانون کے مطابق تعین امن و سلامتی کے لیے ضروری ہے۔

**Disclaimer:** یہ خبر فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ تحقیقاتی کمیشن کی حتمی رپورٹ اور سفارشات سامنے آنے کے بعد واقعے سے متعلق مزید حقائق یا تفصیلات میں تبدیلی ممکن ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں