5

تمغوں کی اصل قدر: وہ لوگ جو معاشرے کے لیے خاموشی سے کام کر رہے ہیں

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** جہاں حکومت مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو قومی اعزازات سے نواز رہی ہے، وہیں بعض ایسے افراد بھی موجود ہیں جن کی بے لوث خدمات کو قومی سطح پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔

ولی اللہ معروف نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں بچھڑے ہوئے افراد کو ان کے خاندانوں سے ملانے کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں، جبکہ **ٹیچر عثمان** ماحولیاتی تبدیلی اور ماحول کے تحفظ کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔

یقیناً یہ دونوں شخصیات کسی اعزاز کے محتاج نہیں، کیونکہ ان کی اصل پہچان ان کی خدمت اور جدوجہد ہے۔ تاہم اگر انہیں بھی قومی تمغوں سے نوازا جاتا تو شاید ان اعزازات کی قدر و منزلت میں مزید اضافہ ہوتا۔

قومی اعزازات کا بنیادی مقصد ان افراد کی خدمات کو تسلیم کرنا ہے جنہوں نے معاشرے، ملک اور انسانیت کے لیے غیر معمولی کردار ادا کیا ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ اعزازات کے انتخاب میں **میرٹ، عوامی خدمت، انسانی حقوق، ماحولیات اور حقیقی قومی خدمات** کو بنیادی اہمیت دی جائے۔

### اعزازات اور میرٹ کا سوال

**ایچ آراین ڈبلیو کے مطابق** قومی اعزازات کسی بھی معاشرے میں خدمت، قربانی اور غیر معمولی کارکردگی کی علامت ہوتے ہیں۔ اگر ان کے انتخاب میں میرٹ کے بجائے سفارش، سیاسی وابستگی یا اثر و رسوخ کا تاثر پیدا ہو تو اس سے نہ صرف مستحق افراد کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے بلکہ قومی اعزازات کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔

پاکستان میں بھی یہ ضروری ہے کہ قومی اعزازات کا نظام شفاف، میرٹ پر مبنی اور عوامی خدمت کو حقیقی معنوں میں تسلیم کرنے والا ہو۔ ایسے افراد جو خاموشی سے انسانوں، معاشرے اور ماحول کے لیے کام کر رہے ہیں، انہیں بھی قومی سطح پر پہچان ملنی چاہیے۔

**Support HRNW:** انسانی حقوق، عوامی خدمت، ماحولیاتی تحفظ، آگاہی اور آزاد صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں: [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

**Disclaimer:** یہ تحریر قومی اعزازات کے نظام میں میرٹ اور شفافیت کی اہمیت کے حوالے سے ایک رائے پر مبنی مضمون ہے۔ اس میں کسی فرد یا ادارے کے بارے میں عائد کیے گئے غیر مصدقہ الزامات کو HRNW کی جانب سے ثابت شدہ حقیقت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں