5

پاکستان کی ترقی کے لیے مزید انتظامی یونٹس ضروری ہیں، فاروق ستار

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** — متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما **ڈاکٹر فاروق ستار** نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی مزید انتظامی یونٹس کے قیام کے بغیر ممکن نہیں اور ملک کو آگے بڑھانے کے لیے **اسٹیٹس کو ختم کرنا ہوگا**۔

فاروق ستار نے کہا کہ کراچی ملک کو تقریباً **60 فیصد اور سندھ کو 90 فیصد** دیتا ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں کراچی دنیا کے تیزی سے ترقی کرنے والے شہروں میں شمار ہوتا تھا، تاہم شہر کی موجودہ صورتحال کے لیے حکمرانوں کی پالیسیوں اور انتظامی نظام کو ذمہ دار قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام کا اصل مسئلہ **وڈیرہ اور جاگیردارانہ نظام** ہے، جبکہ انتظامی یونٹس کا قیام سندھ کی تقسیم نہیں بلکہ **اختیارات اور وسائل کی تقسیم** ہے۔

فاروق ستار کے مطابق نئے انتظامی یونٹس کے چیف ایگزیکٹو مؤثر انداز میں نظام چلانے کے قابل ہوں گے اور اس عمل کا مقصد **موروثی سیاست کے خاتمے اور اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا** ہے۔

انہوں نے مخالف سیاسی جماعتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو گمراہ کرنے کے بجائے اپنی نااہلی اور ناکامیوں کا سامنا کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر متعلقہ اداروں میں موجود فائلیں نہ کھلیں تو **لاڑکانہ، کراچی اور حیدرآباد کے چیف ایگزیکٹو** مبینہ طور پر ان معاملات کا جائزہ لے سکتے ہیں۔

فاروق ستار نے سیاسی مخالفین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ **گورنری واپس لینے کے بعد سندھ کے انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کی جدوجہد** جاری رکھی جائے گی۔

### انسانی حقوق اور اختیارات کی تقسیم کا پہلو

انتظامی یونٹس اور اختیارات کی تقسیم کا معاملہ براہِ راست شہریوں کے **سیاسی، معاشی اور انتظامی حقوق** سے جڑا ہوا ہے۔ مقامی حکومتوں اور انتظامی اداروں کو مؤثر اختیارات اور وسائل کی فراہمی سے شہریوں کو بنیادی سہولیات تک بہتر رسائی مل سکتی ہے۔

تاہم انتظامی تبدیلیوں کے حوالے سے فیصلے **آئینی طریقہ کار، عوامی مشاورت، شفافیت اور تمام شہریوں کے مساوی حقوق** کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جانے چاہئیں۔ سیاسی اختلافات کو پرامن اور جمہوری عمل کے ذریعے حل کرنا بھی بنیادی جمہوری اصول ہے۔

**Support HRNW:**
انسانی حقوق، آزادیِ اظہار، انصاف اور آزاد صحافت کے فروغ کے لیے **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کی حمایت کریں۔

[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

**Disclaimer:**
یہ خبر ڈاکٹر فاروق ستار کی جانب سے دیے گئے بیان کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ خبر میں شامل سیاسی دعوے اور الزامات متعلقہ فریقین کے مؤقف ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق اس رپورٹ میں نہیں کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں