اسلام آباد – پاکستان میں چائلڈ لیبر کے خلاف قوانین موجود ہونے کے باوجود لاکھوں بچے آج بھی شدید مشقت پر مجبور ہیں، اور حکومت بے حسی کی تصویر بنی بیٹھی ہے۔ حال ہی میں وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک کمسن بچہ اینٹوں کا بوجھ اٹھا کر سیڑھیاں چڑھتا دکھائی دیتا ہے—یہ ایک دردناک حقیقت ہے جو حکمرانوں کی نااہلی پر طمانچہ ہے۔
غربت کی چکی میں پسے معصوم بچے، فیکٹریوں، بھٹوں اور ہوٹلوں میں اپنی بچپن کی خوشیاں گروی رکھ کر دو وقت کی روٹی کمانے پر مجبور ہیں۔ *چائلڈ لیبر ایکٹ 1991 اور آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 11 اور 25-A* کی صریح خلاف ورزی ہو رہی ہے، لیکن کبھی کسی حکمران نے عملی قدم نہیں اٹھایا۔
*یہ پہلا واقعہ نہیں، نہ ہی آخری ہوگا۔* حکومتی دعوے کھوکھلے ہیں، اور پالیسی صرف کاغذوں پر لکھی ایک کہانی ہے۔ سوال یہ ہے: *کیا اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ اس بے رحمانہ حقیقت کا نوٹس لیں گے، یا ہمیشہ کی طرح زبانی بیانات دے کر آگے بڑھ جائیں گے؟*


