ال سلواڈور کی بدنام زمانہ جیل CECOT، ظلم کی ایسی داستانیں رقم کی گئی ہیں جو انسانیت کے تصور کو ہلا کر رکھدیا

ال سلواڈور کی بدنام زمانہ جیل CECOT ان دنوں دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، اور اس کی ایک بڑی وجہ امریکی شہری گریسیا ابریگو گارشیا کا کیس ہے جو تین بچوں کا باپ ہے، مگر محض ایک انتظامی غلطی کی بنیاد پر ٹرمپ انتظامیہ نے اسے سرحد پار ال سلواڈور کے اس اذیت ناک جیل میں بھیج دیا۔

اس جیل میں قیدیوں پر ظلم کی ایسی داستانیں رقم کی گئی ہیں جو انسانیت کے تصور کو ہلا کر رکھ دیتی ہیں۔ قیدیوں کو 23.5 گھنٹے روزانہ ایک تنگ سیل میں دوسرے سو سے زائد افراد کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر بند رکھا جاتا ہے۔ نیند کے لیے نہ بستر ہے، نہ تکیہ، اور نہ کمبل۔ زیادہ تر افراد فرش یا لوہے کی ننگی سلاخوں پر سوتے ہیں، یا کبھی کبھار باری باری کھڑے ہو کر سونے پر مجبور ہوتے ہیں۔

جیل میں روشنی چوبیس گھنٹے بند نہیں کی جاتی تاکہ قیدیوں کو نیند نہ آ سکے، اور وقت کا کوئی اندازہ نہ رہے۔ خوراک نہایت ناقص ہے اکثر صرف چاول، پھلیاں، یا ایک روٹی دی جاتی ہے، اور پانی کی شدید کمی ہے۔ برتن کی جگہ قیدی ہاتھوں سے کھانا کھاتے ہیں۔ حفظانِ صحت کی صورتحال تباہ کن ہے: دو غسل خانے اور دو نلکیاں 80 سے زائد افراد کے لیے، جہاں نہ کوئی پردہ ہے، نہ صفائی۔ بیماریوں جیسے ٹی بی، خارش، جلدی امراض اور پیٹ کی بیماریاں عام ہیں، اور طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ کسی کو باہر کے اسپتال لے جانے کی اجازت نہیں، اور سینکڑوں قیدی صرف علاج نہ ملنے کی وجہ سے مر چکے ہیں۔

قیدیوں کو ان کے خاندان یا وکیل سے رابطے کی اجازت نہیں، نہ کوئی فون، نہ خط، نہ ملاقات۔ موبائل سگنل پوری جیل کے ارد گرد تقریباً ڈیڑھ میل کے دائرے میں مکمل طور پر بند ہے۔ عدالت میں پیشی بھی زیادہ تر ویڈیو لنک کے ذریعے اجتماعی طور پر کی جاتی ہے، جہاں ایک ساتھ 900 قیدیوں کو “مقدمے” کا سامنا ہوتا ہے، وہ بھی بغیر وکیل یا ثبوت کے۔

جسمانی اور ذہنی اذیت کی شدت اس قدر ہے کہ قیدیوں کو قید کے پہلے دن سے ننگے پیر، سر جھکائے، زنجیروں میں جکڑ کر لایا جاتا ہے، اور سخت قطار میں بٹھایا جاتا ہے۔ خلاف ورزی یا “نافرمانی” کی معمولی حرکت پر شدید مار پیٹ کی جاتی ہے، بعض اوقات قیدیوں کو اندھیرے سیل میں قید کیا جاتا ہے۔ طویل خاموشی اور خوف کی حالت میں اکثر قیدی اپنی آواز تک کھو بیٹھتے ہیں۔ کئی تو اپنے ساتھ قید مردہ قیدیوں کی لاشوں کے ساتھ کئ دن گزارتے ہیں جب تک کہ انہیں ہٹایا نہ جائے۔

یہاں ال سلواڈور کے بدنام زمانہ مجرموں کیساتھ امریکہ کی طرف سے بھیجے گئے افراد بھی قید ہیں، جن میں سے اکثر بے گناہ ہیں جنہیں صرف ٹیٹو یا ثقافتی علامات کو غلط سمجھ کر مجرم قرار دیکر ملک بدر کردیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں