کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)سندھ حکومت نے دریائے سندھ میں پانی کی 50 فیصد کمی کے باوجود تونسہ پنجند (ٹی پی) لنک کینال کھولنے پر وفاقی اداروں کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ حکومت سندھ کا موقف ہے کہ متنازع لنک کینال کھولنے کا فیصلہ نہ صرف یکطرفہ ہے بلکہ سندھ کے پانی کے حقوق پر براہ راست حملہ ہے۔
اس ضمن میں سندھ حکومت نے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کو باضابطہ خط بھی ارسال کیا ہے، جس میں ٹی پی لنک کینال کو فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ترجمان سندھ حکومت مصطفیٰ بلوچ نے بتایا کہ سندھ پہلے ہی شدید پانی کی قلت کا شکار ہے، اور کینال کھولنے کے فیصلے سے صورتحال مزید خراب ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصلے سے قبل نہ تو سندھ حکومت کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی ہمارے تحفظات کا کوئی جواب دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا: “ہم ہر فورم پر احتجاج کر رہے ہیں۔ سندھ کسی اور کے حصے کا پانی نہیں مانگ رہا، ہمیں ہمارا حصہ چاہیے۔ سندھ کے عوام ہمارے ساتھ ہیں اور ہم آخری دم تک اپنے پانی کے لیے لڑیں گے۔”
پانی کی منصفانہ تقسیم کے مسئلے پر بین الصوبائی کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے، جب کہ ماہرین آبیات کا کہنا ہے کہ ارسا کو تمام فریقین کی رضامندی کے بغیر متنازع کینالز کھولنے سے گریز کرنا چاہیے۔


