مجھے نہیں معلوم کہ اس طرح کے فیملی ولاگرز اور کانٹینٹ کری ایٹرز کو آپ کس طرح ڈیفنڈ کریں گے۔ لیکن یہ چیز آپ کے بچوں کی نفسیات اور لاشعور پر کتنا اثر ڈال رہی ہے شاید آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔
بچوں کی بات اسی لئے کر رہا ہوں، کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جن کی آڈیئنس میں اسی فیصد بچے شامل ہیں۔ اور انکو دیکھنے والوں کا ایج گروپ سات سے سولہ سال ہے۔
یہی وہ عمر ہے جس میں بچوں کا ذہن پروان چڑھتا ہے۔ بلوغت کی طرف جاتا ہے۔ اچھا برا سوچنا سمجھنا شروع کرتا ہے۔
ان سب کو دیکھ کر آپ کے بچے کیا سیکھ رہے ہیں؟
جب جس کا دل کرے گا، ویڈیو بنانے کے لئے کچھا پہن کر اپنے دوستوں کو لیکر رات کو اپنی جوان عمر بہن کے کمرے میں گھس جائے گا، اور اسی نازیبا حالت میں اس پر چڑھ جائے گا۔
جب جس کا دل کرے گا، اپنے بچے کے سامنے بیوی کو گود میں بٹھا کر اس سے بوس و کنار شروع کردے گا۔
جب جس کا دل کرے اپنی چھوٹی سی بھانجی کے ہونٹوں پر ہونٹ ملا لے گا۔
اب کوئی آپکا چھ سات سال کا بچہ یہ سب دیکھے گا، تو اس کے ذہن میں کیا جائے گا؟ کہ اس طرح بھی پیار کیا جاتا ہے۔ اور اس طرح کے پیار کا مزہ اور تجسس اس کے لاشعور (Mind Subconcious) میں محفوظ ہوگیا۔ ہمارا لاشعور نا چاہتے ہوئے بھی بہت سی چیزوں اور کاموں سے متاثر اور متجسس ہوجاتا ہے۔ جو پھر کمفرٹ زون کے حساب سے باہر نکلتا ہے اور اپنا اثر دکھاتا ہے۔
کمفرٹ زون کی سیدھی سے مثال ہے کہ ہر مہذب سے مہذب سے انسان بھی کہیں نا کہیں دو سے تین نہایت قریبی لوگوں کی محفل میں غیر مہذب ہوتا ہے۔
ہم ناولز پڑھتے ہیں یا موویز دیکھتے ہیں تو جو چیز ہمیں متاثر کرتی ہے، وہ ہمارے لاشعور میں محفوظ ہوجاتی ہے۔ اور ہماری ایک خیالی دنیا بنتی جاتی ہے۔ اس میں جس چیز سے ہم ذیادہ متاثر ہوتے ہیں یا متجسس تو اسے ہم فینٹسیز کا نام دیتے ہیں۔
اب ان لوگوں کے کانٹینٹ سے آپ کے بچوں کی خیالی دنیا کیا بن رہی ہے؟؟
ان لوگوں کا کانٹینٹ کیا ہوتا ہے، فضول انٹرٹینمنٹ۔۔۔!!!
جس میں نہ تو آپکو کوئی بہتر پیغام ملے گا، نہ کوئی سبق ملے گا، نہ کوئی معاشرتی اقدار میں بہتری لانے کی بات ہوگی، نہ کوئی ڈسپلن ہوگا، نہ ہی کسی تہذیب نام کی چیز کا کوئی ذرہ ملے گا۔
بد تہذیبی، پیسہ کا دکھاوا، اور ہر وقت کا ہلہ گلہ۔۔
آپ کے بچے یہی کچھ سیکھ رہے ہیں۔ آپ کے بچوں کو احساسی کمتری کا شکار بنایا جا رہا ہے۔


