کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) ال سندھ پرائیویٹ اسکولز اسٹوڈنٹس ، ٹیچرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کراچی ڈویژن کے چیئرمین ملک اصغر نے اپنے بیان میں وفاقی و صوبائی حکومتوں سےکہا ہے کہ ملک بھر میں تعلیمی سال 2026- 2025 کی ابتداء ماہ اپریل سے شروع ہو چکی ہے اور نجی تعلیمی ادارے بچوں کی تعلیم سال کی کارکردگی رپورٹس کے ساتھ نئے تعلیمی سال کی کورس کتب کی پرچی بھی دے رہے ہیں ۔ ٹھیک ہے اعتراض نہیں پر اعتراض تو نجی پبلشرز کورس کتب کی قیمتوں پر ہے جو اس سال %79 قیمتون میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے یہ اضافہ من مانا لگتا ہے ۔ جس کی ملک بھر میں نجی اسکولز کی تعداد کم و بیش ساٹھ ہزار تک ہے ۔ یہ نجی اسکولز گورنمنٹ ٹیکسٹ بورڈ کی کتب کورس میں شامل نہیں کرتے ہیں ۔ جبکہ قانون کے مطابق نجی اسکولز پر لازم ہے کہ وہ چالیس فیصد کتب گورنمنٹ ٹیکسٹ بورڈ کی کتب کورس میں شامل کریں گے ۔ نجی اسکول مالکان گورنمنٹ ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتب کو کورس میں شامل نہیں کرتے اور نجی پبلیشرز کی کتب کو کورس میں شامل کرتے ہیں۔ ان نجی پبلیشرز کی کتب میں پاکستانی معاشرے کی عکاسی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے ۔ جبکہ تمام نجی پبلیشرز ٹیکسٹ بک بورڈ کے ماتحت کام کرتے ہیں ۔ ٹیکسٹ بک بورڈ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان نجی کتب کی جانچ پڑتال کریں جبکہ یہ نجی پبلشرز ٹیکسٹ بک بورڈ سے کوسوں دور اپنی مانی سے کتب کے اسباق غیردیار کی ثقافت کو تو شامل کرتے ہیں جبکہ وطن عزیز کی قربانیوں والے شہداء اورمذہب اسلام شہداء کے ہیروز اور تحریک پاکستان کے ہیروز کے اسباق کتب میں شامل نہیں کرتے ہیں ۔ جن کے خبریں ائے دن اخبار کی سرخیوں کی زینت بنتی رہتی ہیں ۔ نہ ہی نجی پبلیشرز کتب کے جانچ پڑتال کے جاتی اور نہ ان کتب کے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیۓ کوئی میکنزم بنایا گیا ان نجی پبلیشرز کی گونمنٹ اف پاکستان کی وفاقی حکومت اس سلسلے پرکوئی توجہ دے رہی اور نہ ہی صوبائی حکومتیں توجہ دے رہی ہیں ۔ پچھلے پانچ سال سے ہم اپنی پاکستانی طالب علموں کے والدین کے نجی اسکولز مالکان کی ناانصافیوں پر شور مچایا تو وفاقی و صوبائی حکومتوں نے نجی اسکولز پر کورس بیچنے اور غریب والدین کے بچوں کو فیس کی مد میں دس فیصد طالب علموں کے فیس معافی کروا دی لیکن نجی اسکولز نے اسکولز احاطہ سے باہر بک اسٹالز اور بک بینک قائم کردیئے ہیں ۔ بک بینک پر جو کتب رکھی گئیں ہیں وہ پچھلے سال تو نجی اسکولز کے کورس میں شامل تھیں لیکن اس سال نجی اسکولز نے پانچ یا چھ کتب کو تبدیل کر کے دوسرے بپلیشرز کی کتب کو کورس میں شامل کر دیا ۔ بک بینک غریب والدین کے بچوں کو مفت کتب دینے کے بجائے ادھی قیمت پر کتب فروخت کر رہا ہے ۔ نجی اسکول کورس کے کتب کی کل قیمت 9000ہزار ہے تو اسکول لوگو والی کاپیوں کے قیمت 12000ہزار ہوتی ہے 20000ہزار تک کورس اسکول کے کتب شاپس پر ملتا ہے ۔ نجی اسکول مالکان ان پبلیشرز کی کتب کورس میں شامل کرتےہیں جو نجی اسکولز کو لوگو والی کاپی سستےداموں چھاپ کر دیتے ہیں اور نجی پبلیشرز نجی اسکول مالکان کو اپنی کتب %40 سے %50 تک کی چھوٹ میں کورس کتب مہیا کر دیتا ہے اور نجی پبلیشرز چھ ماہ بعد کورس کتب کی رقم وصول کرتا ہے ۔ لیکن %40 سے %50 فیصد کورس کتب کی چھوٹ وہ نجی پبلیشرز اسکول مالکان کو دیتا ہے یا نجی اسکول میں زیرتعلیم طالب علموں کے لیے چھوٹ دی جاتی ہے ۔ لیکن سروے میں یہ دیکھا گیا ہے والدین بچوں کے لیے جو کورس اسکول بک ڈپو سے خریدتے ہیں وہ وہی قیمت ادا کر رہا ہوتا ہے جو کتب پر درج قیمت ہوتی ہے ۔


