کراچی/حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو)سندھ انفارمیشن کمیشن نے کوٹری کے ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو سندھ شفافیت اور حق معلومات تک رسائی ایکٹ 2016 کے تحت ایک شہری کی جانب سے دائر کی گئی شکایت پر نوٹس جاری کیا ہے۔ یہ نوٹس ہسپتال پر معلومات فراہم نہ کرنے کے الزام میں جاری کیا گیا ہے جو کہ قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
شکایت نمبر 176/2025 کے تحت، شہری نے ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال کوٹری کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سے کچھ معلومات طلب کی تھیں۔ سندھ شفافیت اورحق معلومات تک رسائی ایکٹ2016 کی دفعہ 11 کے تحت، کسی بھی سرکاری ادارے کو درخواست موصول ہونے کے بعد مقررہ وقت میں مطلوبہ معلومات فراہم کرنا لازمی ہوتا ہے۔ تاہم، شکایت کنندہ کا مؤقف ہے کہ ہسپتال نے نہ صرف معلومات فراہم نہیں کیں بلکہ ان کی داخلہ اپیل پر بھی کوئی جواب نہیں دیا۔
سندھ انفارمیشن کمیشن نے اس معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو کئی بار طلب کیا ہے۔ جاری کردہ نوٹس میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ 26 جون 2025 کو ہونے والی پہلی سماعت میں بھی ہسپتال کی جانب سے کوئی نمائندہ پیش نہیں ہوا۔ کمیشن نے اس غیر ذمہ دارانہ رویے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہسپتال کو آخری موقع دیا ہے۔
کمیشن نے اب میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو حکم دیا ہے کہ وہ 18 اگست 2025 کو دوپہر 12 بجے کمیشن کے دفتر میں ذاتی طور پر پیش ہوں۔ انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے ساتھ اس شکایت سے متعلق تمام مطلوبہ معلومات، دستاویزات، اور اپنا ذاتی شناختی کارڈ لے کر آئیں۔ نوٹس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اگر اس مقررہ تاریخ پر وہ حاضر نہیں ہوتے تو ان کی عدم موجودگی میں یکطرفہ فیصلہ کر دیا جائے گا اور ان کے پاس کوئی اپیل کا حق نہیں ہوگا۔
سندھ انفارمیشن کمیشن نے مزید خبردار کیا ہے کہ اگر ہسپتال اس قانون کی تعمیل نہیں کرتا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں جو کہ سندھ شفافیت اور حق معلومات تک رسائی ایکٹ 2016 کی دفعہ 15 کے تحت کارروائی کی صورت میں ہوں گے۔ یہ اقدام شہریوں کے حق معلومات کو یقینی بنانے کے لیے کمیشن کی جانب سے اٹھایا گیا ایک اہم قدم ہے اور یہ سرکاری اداروں پر اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے دباؤ بڑھاتا ہے۔


