وزیراعلی اور گورنر سندھ کی مزار قائد پر حاضری

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گورنر سندھ محمد کامران ٹیسوری اوراپنی کابینہ اراکین کے ہمراہ یوم پاکستان کے موقع پر بابائے قوم کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے مزار قائد پر حاضری دی۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے 23 مارچ 1940 کی اہمیت کو اجاگر کیا، جب آل انڈیا مسلم لیگ نے لاہور میں قرارداد پاکستان منظور کی جس نے ایک آزاد وطن کی بنیاد رکھی۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آج قرارداد کی 85ویں سالگرہ ہے۔ اس تاریخی موقع پر انہوں نے بانی پاکستان کے وژن کے مطابق پاکستان کی ترقی کے لیے دعا کی اور امید ظاہر کی کہ یہ ملک ایک اسلامی جمہوری ریاست کے طور پر ترقی کی منازل طے کرتا رہے گا۔مراد علی شاہ نے پاکستان کےوجود میں آنے کے حوالے سے سندھ کے اہم کردار پر روشنی ڈالی اور کہا کہ 3 مارچ 1943 کو سندھ اسمبلی نے سب سے پہلے قرارداد پاکستان کی منظوری دی ۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کی یہ جدوجہد 14 اگست 1947 کو تعبیر کو پہنچی جب پاکستان اسلامی اصولوں پر قائم ایک خودمختار ملک کے طور پر ابھرا۔آج ملک کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے مراد علی شاہ نے دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد اور اقتصادی ترقی کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تمام شہریوں پر زور دیا کہ وہ ملک دشمن قوتوں کے خلاف ایک ہوں جو پاکستان کے استحکام کے لیے خطرہ ہیں اور قوم کو درپیش کسی بھی خطرے کے خلاف سب کو متحد ہونا پڑے گا۔ مراد علی شاہ نے 1971 کے المناک واقعات کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ کس طرح سابق وزیر اعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کی تعمیر نو اوریکجا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ 1977 میں جب ایک فوجی آمر نے ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا تو جمہوری عمل میں خلل پڑگیااور بہت سے افراد اسے ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دور قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی کے عروج کو آمر کے دور سے منسوب کرتے ہوئے کہاکہ آئین کی معطلی کے سنگین پا نتائج برآمد ہوئے۔خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات بشمول جعفر ایکسپریس پر حملے اور نوشکی، قلات اور بنوں میں ہونے والے واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے قومی سلامتی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ایسے سیاسی جماعتوں پر تنقید کی جنہوں نے پہلے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاسوں میں شرکت کو نظر انداز کیا تھا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی سے اجتماعی طور پر نمٹنا ہوگا۔وزیر اعلیٰ سندھ نے عوام پر زور دیا کہ وہ یوم پاکستان پر ملک کی خوشحالی کے لیے جدوجہد کرنے کے اپنے عہد کا اعادہ کریں۔ انہوں نے تمام سیاسی قوتوں پر زور دیا کہ وہ متحد ہو کر پاکستان کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں، جس طرح شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں کیا تھا اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے قومی دفاع کے لیے میزائل ٹیکنالوجی کو فروغ دیا تھا۔وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور دہشتگردوں کی پشت پناہی میں غیر ملکی عناصر ملوث ہیں اور ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے متحدہ محاذ کی ضرورت ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور صدر آصف علی زرداری کی قیادت میں سندھ حکومت قومی ترقی اور قومی سلامتی کے لیے پرعزم ہے۔مراد علی شاہ نے فلسطین، کشمیر اور یمن میں مظالم سمیت مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز پر بھی بات کی۔ انہوں نے لاہور میں تاریخی اسلامی سربراہی کانفرنس کی میزبانی کرنے والے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام دشمن قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلامی اقوام کے درمیان اتحاد کو فروغ دینا لازمی ہے۔ ایک سوال کاجواب دیتے ہوئے وزیراعلییٰ سندھ سیدمراد علی شاہ نے واضح پیغام دیا کہ کوئی نہریں نہیں بن رہیں ۔ عوام کے خدشات کو دور کرتے ہوئے انہوں نےکہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ذاتی طور پر مختلف علاقوں کا دورہ کریں گے اور شہریوں کو یقین دلائیں گے کہ ایسی کوئی نہریں نہیں بنائی جائیں گی۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پیپلز پارٹی کبھی بھی ان نہروں کی تعمیر کی اجازت نہیں دے گی اور اس معاملے کے حوالے سے کسی بھی قسم کی غلط معلومات سامنے آئیں تو اس کی وضاحت کی جائے گی۔مرادعلی شاہ نے مزید کہا کہ سندھ میں کبھی نہروں کی تعمیر کا منصوبہ نہیں بنایا گیا، یہاں تک کہ کارپوریٹ فارمنگ کے لیے مختص زمینوں کو بھی کسی نہر سے پانی نہیں ملے گا۔ مزید برآں کسی بھی بستی کوبے گھر نہیں کیاجائے گا۔ اگر موجودہ پانی کو محفوظ کرنے کے بعد آبادی میں کسی بھی توسیع کو ممکن سمجھا جاتا ہے تو ح…

اپنا تبصرہ بھیجیں