کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) کراچی کو مفتوحہ سلطنت سمجھ کر مرتضی وہاب گورنر سندھ سے سوال نہ کریں۔ حق تلفیوں کی بدترین رویات اور کے ایم سی کو کرپشن کا گڑھ بنانے پر کراچی کے تمام اسٹیک ہولڈرز کھل کر بیڈ گورننس اور کراچی کو تباہ کرنے کے اقدامات کی مخالفت کر رہے ہیں۔میئر نے کے ایم سی کو سیاسی انتقام اور جعلسازیوں کا گڑھ بنا دیا ہے۔ مہاجر اتحاد نیشنل موومنٹ پاکستان کے نائب صدر وومن ونگ صدر روبینہ یاسمین نے یہ بات آفیسرز ایکشن کمیٹی کے وفد سے ملاقات میں کہی، عقیل انبالوی، یونس میمن، کمال احمد بھی اس موقع پر موجود تھے۔ روبینہ یاسمین نے کہا کہ تمام حق مانگنے والے معطل افسران و ملازمین کو بحال کیا جائے۔ مہاجر دشمن میونسپل کمشنر افضل زیدی کو وفاق واپس کیا جائے۔ ایس سی یو جی افسران عبدالحسیبSCUG بی ایس 17،کو کئی چارج دینے، مسرت علی خان کے پہیلی کاپٹر جنید خان کو ایچ آر ایم، دانیال علی خانSCUG بی ایس 17کو پی آرو میئر سے ڈائریکٹر پرنٹنگ پریس، صائم خان عمران بی ایس 17، SCUGڈائریکٹر وسطی لینڈ کو ایک اور چارج دینے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہیلی کاپٹر سروس اور ضمیر عباسی کے جعلی شیڈول آف اسٹبلشمنٹ پر نگراں حکومت میں تقرر کئے گئے غیر قانونی سندھی افسران کو کے ایم سی پر مسلط کرکے میئر مہاجر قوم سے غداری اور جیالا و سسٹم پرستی کر رہے ہیں۔ ہمارے مہاجر افسران تعیناتی سے محروم ہیں۔یئر بھول رہے ہیں کہ چار دن کی چاندنی ہھر اندھیری رات ہے یہی مہاجر ہر گلی ہر محلے انکا احتساب کریں گے۔ ہم گورنر سندھ سے آئینی کردار ادا کرنے اور کراچی کے مہاجر اداروں کو سندھی اسٹیٹ بنانے کی مذمت کرتے ہیں۔ سندھی ہمارے بھائی ہیں لیکن متعصب پیپلز پارٹی انہیں مہاجروں سے متصادم کرانے پر تلی ہوئی ہے۔ ہم ریٹائرڈ ملازمین کا مقدمہ جیتنے پر زولفقار شاہ کو مبارکباد اور انہیں ایس سی یو جی اور انتقام کا نشانہ بننے والے افسروں اور ملازمین کے لئے آواز اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم انکے ساتھ ہوں گے۔


