**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)**، سندھ ہائی کورٹ میں مصطفیٰ عامر قتل کیس کے ٹرائل میں مبینہ تاخیری حربوں کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران ٹرائل کورٹ نے کیس کی پیش رفت سے متعلق اپنی رپورٹ سندھ ہائی کورٹ میں جمع کرا دی۔
ٹرائل کورٹ کی رپورٹ میں کیس کے ٹرائل میں تاخیر کا ذمہ دار ملزم ارمغان اور اس کے وکیل خرم عباس کو قرار دیا گیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے ٹرائل میں تاخیر کی وجوہات کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے انسداد دہشت گردی کی عدالت کو ہدایت کی کہ مصطفیٰ عامر قتل کیس کا ٹرائل قانون کے مطابق جلد از جلد مکمل کیا جائے۔
عدالت نے ملزم ارمغان اور شیراز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 23 ستمبر کو دونوں ملزمان سے جواب طلب کرلیا۔
مدعیہ کے وکیل افتخار شاہ نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کی جانب سے مختلف حیلے بہانے اختیار کرکے کیس کے ٹرائل میں تاخیر کی جارہی ہے۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ مصطفیٰ عامر قتل کیس کا ٹرائل جلد مکمل کرنے کے لیے انسداد دہشت گردی عدالت کو ہدایات جاری کی جائیں۔
مصطفیٰ عامر قتل کیس میں ٹرائل میں تاخیر کا معاملہ مقتول کے خاندان کے لیے بروقت انصاف، شفاف عدالتی کارروائی اور متاثرہ خاندان کے حقِ انصاف کے حوالے سے اہم انسانی حقوق کے سوالات کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ عدالت کی جانب سے ٹرائل جلد مکمل کرنے کی ہدایت اس امر کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے کہ سنگین فوجداری مقدمات میں انصاف کے عمل کو غیر ضروری تاخیر سے محفوظ رکھا جائے۔
**Support HRNW:** انسانی حقوق، انصاف اور اہم قومی و عالمی خبروں کی آزادانہ رپورٹنگ جاری رکھنے کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں:
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
**Disclaimer:** یہ خبر عدالتی کارروائی، ٹرائل کورٹ کی رپورٹ اور فریقین کے وکلا کی جانب سے پیش کیے گئے مؤقف کی بنیاد پر شائع کی گئی ہے۔ مقدمے میں عائد الزامات حتمی عدالتی فیصلے تک الزامات ہی تصور ہوں گے۔


