5

ٹرمپ انتظامیہ نے ٹرانس جینڈر سابق سی آئی اے افسر کو وائٹ ہاؤس سے برطرف کردیا

**واشنگٹن (ایچ آراین ڈبلیو):** امریکی صدر **ڈونلڈ ٹرمپ** کی انتظامیہ نے طویل عرصے تک سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (CIA) میں خدمات انجام دینے والی ٹرانس جینڈر خاتون **جولیا کرلی** کو ان کی صنفی شناخت منظرِ عام پر آنے کے بعد وائٹ ہاؤس سے برطرف کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جولیا کرلی تقریباً **20 سال تک سی آئی اے سے وابستہ** رہیں اور 2013 میں ایجنسی میں ملازمت کے دوران اپنی جنس تبدیل کرنے والی پہلی سی آئی اے افسر بنیں۔

جولیا کرلی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی 2024 کے صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد انہیں وائٹ ہاؤس میں اپنی ذمہ داریاں جاری رکھنے کے لیے کہا گیا تھا، حالانکہ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران ٹرانس جینڈر افراد سے متعلق سخت پالیسی مؤقف اختیار کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد بھی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتے رہے، تاہم بعد میں ان کی ملازمت ختم کردی گئی۔

### انسانی حقوق کا پہلو

HRNW کے مطابق کسی بھی شخص کے روزگار یا سرکاری خدمات سے متعلق فیصلے **میرٹ، مساوی مواقع، قانونی تحفظ اور عدم امتیاز** کے اصولوں کے مطابق ہونے چاہئیں۔ صنفی شناخت کی بنیاد پر مبینہ امتیازی سلوک انسانی حقوق اور مساوی روزگار کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتا ہے۔

تاہم کسی بھی برطرفی کے قانونی جواز اور اس کے حقیقی اسباب کا حتمی تعین متعلقہ قانونی یا انتظامی عمل کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے۔

### Support HRNW

انسانی حقوق، مساوی مواقع، عدم امتیاز اور آزاد صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں۔

[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

### Disclaimer

یہ خبر دستیاب غیر ملکی میڈیا رپورٹس اور جولیا کرلی کے بیان کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ برطرفی کی وجوہات اور اس کے قانونی پہلوؤں سے متعلق حتمی مؤقف متعلقہ امریکی حکام یا قانونی کارروائی کے بعد واضح ہوسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں