**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو):** پمز اسپتال سانحے میں جاں بحق ہونے والے **14 بچوں کی میتیں ورثاء کے حوالے** کردی گئی ہیں، تاہم بعض لواحقین نے احتجاج کرتے ہوئے بچوں کی شناخت کے لیے **ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ** کیا ہے۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ بعض میتیں مبینہ طور پر **مکمل شناخت کے بغیر** ان کے حوالے کی گئی ہیں، جس کے باعث خاندانوں میں شدید تشویش اور بے چینی پائی جارہی ہے۔
احتجاج کرنے والے ورثاء نے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کی شناخت کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے **ڈی این اے ٹیسٹ** کرائے جائیں تاکہ ہر خاندان کو درست طور پر اپنے بچے کی میت کی حوالگی یقینی بنائی جاسکے۔
سانحے کے متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ ایسے حساس معاملے میں شناخت کا عمل مکمل احتیاط، شفافیت اور سائنسی طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔
### انسانی حقوق کا پہلو
HRNW کے مطابق کسی بھی سانحے میں جاں بحق افراد کی **درست شناخت اور ان کے اہل خانہ کو باعزت اور تصدیق شدہ طریقے سے میت کی حوالگی** بنیادی انسانی اور قانونی تقاضا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کے خدشات کو دور کرنے کے لیے شفاف شناختی عمل اور ضرورت پڑنے پر ڈی این اے ٹیسٹنگ انتہائی اہم ہے۔
### Support HRNW
انسانی حقوق، متاثرہ خاندانوں کے حقوق، شفاف تحقیقات اور ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں۔
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### Disclaimer
یہ خبر دستیاب اطلاعات اور لواحقین کے مؤقف کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ میتوں کی شناخت اور ڈی این اے ٹیسٹ سے متعلق حتمی معلومات متعلقہ حکام کی تصدیق کے بعد واضح ہوں گی۔


