5

سائنسدانوں کا انسانی دماغ جیسے آرگینوئڈز کو 7 سال تک زندہ رکھنے میں اہم پیش رفت

**واشنگٹن (ایچ آراین ڈبلیو):** سائنسدانوں نے انسانی دماغ سے مشابہ چھوٹے لیبارٹری ڈھانچوں، جنہیں **برین آرگینوئڈز (Brain Organoids)** کہا جاتا ہے، کو کئی سال تک زندہ اور نشوونما پانے کے قابل رکھنے میں اہم پیش رفت کی ہے۔ بعض تجرباتی آرگینوئڈز کی عمر اب **7 سال تک** پہنچ چکی ہے۔

برین آرگینوئڈز اسٹیم سیلز سے تیار کیے گئے انسانی دماغی خلیوں کے چھوٹے مجموعے ہوتے ہیں۔ یہ مکمل انسانی دماغ نہیں بلکہ دماغ کے محدود اور سادہ ماڈلز ہیں، جن کے ذریعے سائنسدان انسانی دماغ کی نشوونما اور مختلف حیاتیاتی مراحل کا مطالعہ کرتے ہیں جن کا براہِ راست مشاہدہ انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

**ہارورڈ یونیورسٹی** کی اسٹیم سیل محقق **پاؤلا ارلوٹا** کی سربراہی میں ایک تحقیقی ٹیم نے 34 برین آرگینوئڈز کا مطالعہ کیا اور تقریباً **5 سال تک وقفے وقفے سے ان کے آر این اے (RNA)** کا تجزیہ کیا۔

محققین کے مطابق طویل عرصے تک ان ڈھانچوں کو برقرار رکھنے سے دماغی نشوونما، بیماریوں اور انسانی دماغ کے پیچیدہ حیاتیاتی عمل کو سمجھنے کے لیے تحقیق کے نئے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔

### انسانی حقوق اور اخلاقی پہلو

HRNW کے مطابق انسانی خلیوں سے تیار کردہ دماغی آرگینوئڈز پر تحقیق طبی سائنس میں اہم پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے، تاہم ایسی تحقیق کے ساتھ **حیاتیاتی اخلاقیات، انسانی خلیوں کے ذمہ دارانہ استعمال اور تحقیقاتی نگرانی** کے اصولوں کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔

### Support HRNW

سائنسی آگاہی، انسانی حقوق، تحقیقاتی اخلاقیات اور ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں۔

[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

### Disclaimer

یہ خبر فراہم کردہ تحقیقی معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ برین آرگینوئڈز مکمل انسانی دماغ نہیں ہوتے بلکہ انسانی دماغ کے محدود تجرباتی ماڈلز ہیں۔ ان کی حیاتیاتی صلاحیتوں اور شعور سے متعلق دعووں کو سائنسی شواہد اور ماہرین کی تحقیق کے تناظر میں سمجھا جانا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں