**دی ہیگ (ایچ آراین ڈبلیو):** امریکی پابندیوں کے باوجود **عالمی فوجداری عدالت (ICC)** کی صدر **ٹوموکو اکانے** نے عہدہ چھوڑنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کو کبھی بند نہیں ہونا چاہیے اور وہ دباؤ کے باوجود اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گی۔
رپورٹس کے مطابق امریکی وزیر خارجہ **مارکو روبیو** نے گزشتہ ہفتے ٹوموکو اکانے پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ یہ اقدام عالمی فوجداری عدالت کی جانب سے **اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ** کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جانے کے بعد امریکا اور آئی سی سی کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا۔
ٹوموکو اکانے کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی بعض ججوں کو پابندیوں اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، لیکن انہوں نے اپنے فرائض سے دستبرداری اختیار نہیں کی۔ ان کے مطابق وہ بھی **ہمت نہیں ہاریں گی اور اپنے فرائض انجام دیتی رہیں گی۔**
جاپان کے وزیراعظم نے بھی آئی سی سی کی صدر کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
### انسانی حقوق کا پہلو
HRNW کے مطابق عالمی فوجداری عدالت کا بنیادی مقصد سنگین ترین بین الاقوامی جرائم کے متاثرین کے لیے **انصاف اور احتساب** کے عمل کو آگے بڑھانا ہے۔ عدالتی اداروں کی آزادی اور ججوں کا بیرونی سیاسی دباؤ سے آزاد ہوکر کام کرنا **قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے تحفظ** کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔
### Support HRNW
انسانی حقوق، بین الاقوامی انصاف، قانون کی حکمرانی اور ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں۔
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### Disclaimer
یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ پابندیوں، عدالتی کارروائیوں اور متعلقہ حکام کے بیانات سے متعلق تفصیلات میں سرکاری اعلانات کے مطابق تبدیلی ممکن ہے۔


