**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)**، جیکب آباد میں پسند کی شادی کرنے والا جوڑا مبینہ ہراسانی اور گرفتاری کے خدشے کے باعث تحفظ کے لیے سندھ ہائی کورٹ پہنچ گیا۔ عدالت نے درخواست پر ڈی آئی جی لاڑکانہ، ایس ایس پی جیکب آباد، متعلقہ ایس ایچ او اور آٹھ رشتے داروں کو نوٹس جاری کردیے۔
عدالت نے جیکب آباد پولیس کو درخواست گزار میاں بیوی کی گرفتاری سے روکتے ہوئے انہیں مبینہ طور پر ہراساں کرنے سے بھی روک دیا۔
درخواست گزاروں کے وکیل قمبر عباس ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ نورالنساء اور عبدالوہاب کٹو نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے۔ وکیل کے مطابق برکت علی کٹو اور ان کے بیٹوں کی جانب سے میاں بیوی کے خلاف مقدمہ درج کرایا گیا ہے۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ جیکب آباد پولیس مسلسل میاں بیوی کو مبینہ طور پر ہراساں کررہی ہے اور انہیں گرفتاری کے ساتھ ساتھ مزید مقدمات درج کرنے کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں۔
قمبر عباس ایڈووکیٹ کے مطابق مبینہ ہراسانی سے تنگ آکر میاں بیوی جیکب آباد سے کراچی منتقل ہوگئے ہیں اور اب انہوں نے قانونی تحفظ کے لیے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔
یہ معاملہ بالغ افراد کے اپنی مرضی سے شادی کرنے کے حق، شخصی آزادی، تحفظ اور پولیس کی جانب سے مبینہ ہراسانی سے تحفظ جیسے بنیادی انسانی حقوق کے اہم پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے۔ عدالت کی جانب سے پولیس کو گرفتاری اور ہراسانی سے روکنے کا عبوری حکم درخواست گزار جوڑے کے قانونی تحفظ کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔
**Support HRNW:** انسانی حقوق، انصاف اور اہم قومی و عالمی خبروں کی آزادانہ رپورٹنگ جاری رکھنے کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں:
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
**Disclaimer:** یہ خبر عدالتی کارروائی اور درخواست گزاروں کے وکیل کی جانب سے عدالت میں پیش کیے گئے مؤقف کی بنیاد پر شائع کی گئی ہے۔ الزامات حتمی عدالتی فیصلے تک الزامات ہی تصور ہوں گے۔


