9

بوٹ بیسن منشیات کیس: سندھ ہائی کورٹ کی پولیس تفتیشی افسر پر سخت برہمی، دو ملزمان ضمانت پر رہا

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)**، سندھ ہائی کورٹ میں بوٹ بیسن کے علاقے میں دو ملزمان فیصل اور یعقوب سے مبینہ منشیات برآمدگی کے مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کے تفتیشی افسر کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

بوٹ بیسن پولیس نے کیس کے تفتیشی افسر اے ایس آئی ناصر خان کو ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کیا، جس پر عدالت نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے استفسار کیا کہ عدالت کے طلب کرنے کے باوجود پیش کیوں نہیں ہوئے اور کیس کا چالان اب تک کیوں پیش نہیں کیا گیا۔

جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیے کہ کیا وردی کا بھوت دماغ پر سوار ہوگیا ہے؟ ایسے نااہل پولیس اہلکاروں کو نکالا کیوں نہیں جاتا؟ عدالت نے مزید کہا کہ یہ حالات ہیں پولیس کے، جو اَن فٹ ہوتا ہے وہ پولیس میں لگ جاتا ہے۔

تفتیشی افسر ناصر خان نے مؤقف اختیار کیا کہ مالی مشکلات کے باعث چالان جمع نہیں کرواسکا اور وہ کرائے کے گھر میں رہتا ہے۔ تفتیشی افسر کے اس بیان پر عدالت نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مالی مشکلات کا چالان جمع نہ کرانے سے کیا تعلق ہے؟ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملزمان جیل میں پڑے ہیں اور تفتیشی افسر چالان ہی جمع نہیں کروا رہا۔

عدالت نے تفتیشی افسر کی کارکردگی پر مزید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اہلکاروں کو پولیس سے نکال کیوں نہیں دیتے، ان سے جان چھڑوائیں۔ عدالت نے سوال کیا کہ تفتیشی افسر کو ترقی کس نے دی؟ عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس کے خلاف کارروائی کی جائے اور اسے ریٹائرڈ کرنے کے لیے درخواست دی جائے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایسے لوگوں کو تو پنشن بھی نہیں ملنی چاہیے۔

بوٹ بیسن کے اے ایس آئی نے عدالت کو بتایا کہ اس کی ریٹائرمنٹ میں ساڑھے تین سال باقی ہیں اور وہ اس وقت معطل ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے دونوں ملزمان فیصل اور یعقوب کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا اور ہر ملزم کو دو، دو لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی۔

عدالت نے ڈی آئی جی ساؤتھ کو بھی تفتیشی افسر کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا۔

درخواست گزار کے وکیل مامون شیروانی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے خلاف 20 مارچ کو تھانہ بوٹ بیسن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا اور دونوں ملزمان گزشتہ پانچ ماہ سے جیل میں ہیں، تاہم تفتیشی افسر نے اب تک مقدمے کا چالان پیش نہیں کیا۔

یہ عدالتی کارروائی فوجداری انصاف کے نظام میں بروقت تفتیش، زیرِ حراست افراد کے قانونی حقوق اور پولیس کی جوابدہی کی اہمیت کو نمایاں کرتی ہے۔ طویل عرصے تک چالان پیش نہ ہونا اور ملزمان کا مقدمے کی پیش رفت کے بغیر جیل میں رہنا منصفانہ ٹرائل اور انصاف تک بروقت رسائی کے حوالے سے اہم انسانی حقوق کے سوالات بھی پیدا کرتا ہے۔

**Support HRNW:** انسانی حقوق، انصاف اور اہم قومی و عالمی خبروں کی آزادانہ رپورٹنگ جاری رکھنے کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں:
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

**Disclaimer:** یہ خبر عدالتی کارروائی، وکلا کے مؤقف اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر شائع کی گئی ہے۔ منشیات برآمدگی سے متعلق الزامات مقدمے کے حتمی فیصلے تک الزامات ہی تصور ہوں گے۔ عدالت نے دونوں ملزمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں