21

کراچی: صحافی اور دو بچوں کی مبینہ غیرقانونی حراست، اینٹی انکروچمنٹ فورس کے 5 اہلکار معطل

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** صحافی اور اس کے دو بچوں کو مبینہ طور پر غیرقانونی حراست میں لینے، لاک اپ میں رکھنے، تشدد کرنے اور موبائل فونز و نقدی لے جانے کے الزامات پر **اینٹی انکروچمنٹ فورس (AEF) ایسٹ زون کے 5 اہلکاروں کو معطل** کردیا گیا، جبکہ واقعے کی محکمانہ انکوائری کا بھی حکم دے دیا گیا ہے۔

اینٹی انکروچمنٹ فورس سندھ کے ڈائریکٹر **لیاقت علی کلہوڑو** نے آفس آرڈر جاری کرتے ہوئے پانچوں اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کیا۔ آفس آرڈر کے مطابق کارروائی مبینہ طور پر صورتحال کو غلط انداز میں نمٹانے، نجی فریق سے جھگڑے، اسٹیشن کے نظم و ضبط اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کی گئی۔

معطل کیے جانے والے اہلکاروں میں **سب انسپکٹر محمد احمد، ایس ایچ او اے ای ایف اسٹیشن ایسٹ زون ون، ہیڈ کانسٹیبل اعظم رضا، پولیس کانسٹیبل رانا فواد، محمد بابر اور شمروز** شامل ہیں۔

آفس آرڈر میں کہا گیا ہے کہ اے ای ایف اسٹیشن زون ون کراچی میں صورتحال کو مبینہ طور پر غلط طریقے سے سنبھالنے کے نتیجے میں نجی فریق کے ساتھ تنازع پیدا ہوا، جبکہ اسٹیشن کے نظم و ضبط اور محکمانہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی بھی ہوئی۔

معطل اہلکاروں کو **اینٹی انکروچمنٹ فورس سندھ ہیڈکوارٹر کراچی** میں رپورٹ کرنے اور روزانہ رول کال میں شرکت کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہیں مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت کے بغیر ہیڈکوارٹر یا اسٹیشن چھوڑنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔

### 15 روز میں انکوائری رپورٹ طلب

**اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیاقت حسین جمالی** کو معطل اہلکاروں کے خلاف محکمانہ انکوائری کے لیے انکوائری افسر مقرر کیا گیا ہے۔ انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ **15 روز کے اندر سفارشات کے ساتھ انکوائری رپورٹ** پیش کریں۔

### صحافی اور بچوں کی مبینہ حراست

ذرائع کے مطابق گزشتہ روز شام تقریباً 5 بجے اے ای ایف ایسٹ زون ون کے ایس ایچ او، دیگر اہلکاروں اور 20 سے زائد اہلکاروں نے مبینہ طور پر صحافی اور اس کے دو بچوں کو حراست میں لے کر لاک اپ میں رکھا۔

الزام ہے کہ صحافی اور اس کے بچوں کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ ان کے **دو موبائل فونز اور نقد رقم** بھی لے لی گئی۔

بعد ازاں ضلعی پولیس کی مداخلت پر صحافی اور اس کے دونوں بچوں کو اینٹی انکروچمنٹ فورس کی تحویل سے بازیاب کرایا گیا۔

واقعے کے حوالے سے موصول ہونے والی شکایات کے بعد ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ فورس سندھ نے پانچ اہلکاروں کو معطل کرتے ہوئے محکمانہ انکوائری کا حکم دیا ہے۔

### انسانی حقوق کا پہلو

کسی بھی شہری کو غیرقانونی حراست، تشدد یا بدسلوکی کا نشانہ بنانا بنیادی انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کے منافی ہے۔ واقعے کی شفاف تحقیقات، مبینہ متاثرین کے حقوق کا تحفظ اور اگر الزامات ثابت ہوں تو ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔

### ڈسکلیمر

یہ خبر دستیاب سرکاری آفس آرڈر اور ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ غیرقانونی حراست، تشدد اور موبائل فونز و نقدی لے جانے کے الزامات کی حتمی تصدیق محکمانہ انکوائری اور متعلقہ قانونی کارروائی کے بعد ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں