10

یوٹیوب کا مدمقابل آ گیا ، نوٹ کمانے کا نیا موقع لیکن ابھی تک محدود

چینی ویڈیو پلیٹ فارم بلی بلی کی عالمی توسیع، یوٹیوب کے متبادل بننے کی کوششیں تیز

**بیجنگ (ایچ آراین ڈبلیو):** چین کے مقبول ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم **بلی بلی (Bilibili)** نے عالمی سطح پر اپنی موجودگی بڑھانے اور غیر ملکی صارفین و کانٹینٹ کریئیٹرز کو متوجہ کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق بلی بلی نے اپنے بین الاقوامی ورژن میں غیر ملکی صارفین کے لیے رجسٹریشن کا عمل آسان بنایا ہے اور شناختی دستاویز کی لازمی تصدیق کی شرط ختم کردی گئی ہے۔ پلیٹ فارم کا مقصد بیرون ملک صارفین کے لیے زیادہ آسان اور مقامی نوعیت کا تجربہ فراہم کرنا ہے۔

### فی ہزار ویوز 70 سینٹ کی مبینہ پیشکش

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی رپورٹس کے مطابق بلی بلی بعض کریئیٹرز کو **ہر ایک ہزار ویوز پر تقریباً 0.70 امریکی ڈالر** ادا کرنے کی پیشکش کرسکتا ہے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 194 روپے بنتے ہیں۔

تاہم یہ ادائیگی کی شرح بلی بلی کی جانب سے عالمی کریئیٹرز کے لیے **باضابطہ طور پر تصدیق شدہ نہیں**، اس لیے اسے حتمی معاوضہ یا یقینی آمدنی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

چینی میڈیا ادارے *گلوبل ٹائمز* کے مطابق بلی بلی نے اپنے بین الاقوامی ورژن میں متعدد تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں تاکہ غیر ملکی صارفین اور کریئیٹرز کے لیے پلیٹ فارم کا استعمال آسان بنایا جاسکے۔

### 350 ملین سے زائد ماہانہ صارفین

بلی بلی نے 2009 میں کام شروع کیا تھا اور چین میں نوجوان صارفین کے درمیان خاصی مقبولیت حاصل کی۔ کمپنی کے ماہانہ فعال صارفین کی تعداد **350 ملین سے زیادہ** بتائی جاتی ہے، جبکہ بعض حالیہ دعووں میں یہ تعداد 370 ملین سے بھی تجاوز کرنے کی بات کی گئی ہے۔

عالمی سطح پر پلیٹ فارم کی بڑھتی ہوئی رسائی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ معروف یوٹیوبر اور کریئیٹر **مسٹر بیسٹ** نے 2024 میں بلی بلی پر مواد پوسٹ کرنا شروع کیا۔ رپورٹس کے مطابق پلیٹ فارم پر ان کے فالوورز کی تعداد تقریباً **8.8 ملین** تک پہنچ چکی ہے۔

### کیا بلی بلی یوٹیوب کا متبادل بن سکتا ہے؟

ماہرین کے مطابق بلی بلی کے لیے یوٹیوب کا حقیقی عالمی حریف بننا آسان نہیں ہوگا۔ یوٹیوب پہلے ہی دنیا بھر میں تخلیق کاروں، مشتہرین اور ناظرین کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کرچکا ہے۔

اس کے مقابلے میں بلی بلی کا عالمی اشتہاری نظام اور کریئیٹرز کے لیے مالی معاونت کا ڈھانچہ ابھی نسبتاً محدود ہے۔ اسی لیے فی ہزار ویوز زیادہ معاوضے کی کوئی بھی مبینہ پیشکش لازماً ہر کریئیٹر کے لیے زیادہ مجموعی آمدنی کی ضمانت نہیں دیتی۔

ماہرین کے نزدیک کریئیٹرز کے لیے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ فی ہزار ویوز کتنی رقم ملتی ہے بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ پلیٹ فارم پر **کتنے نئے ناظرین، اشتہاری مواقع اور مستقبل کی آمدنی** حاصل ہوسکتی ہے۔

### گیمنگ، اے آئی اور اینیمیشن کمیونٹیز

بلی بلی نے اینیمیشن، گیمنگ، اے آئی اور دیگر مخصوص دلچسپیوں سے متعلق مواد کے گرد مضبوط آن لائن کمیونٹیز تشکیل دی ہیں۔ اس وجہ سے ان شعبوں میں کام کرنے والے عالمی کریئیٹرز کو یوٹیوب کے علاوہ ایک نئی ناظرین کمیونٹی تک رسائی کا موقع مل سکتا ہے۔

پلیٹ فارم کی ایک نمایاں خصوصیت **’ڈان مو’ یا بلٹ کمنٹس** ہیں، جن میں ناظرین کے تبصرے ویڈیو چلنے کے دوران اسی وقت اسکرین پر دکھائی دیتے ہیں۔ رنگین تبصرے اور موضوعاتی کمیونٹیز صارفین کو محض ویڈیو دیکھنے کے بجائے اس کے مباحثے اور ماحول کا حصہ بننے کا احساس دیتے ہیں۔

بلی بلی کے نئے کریئیٹر ہب نے ایکس پر ایک صارف کے سوال کے جواب میں کہا کہ پلیٹ فارم ان تمام افراد کا خیرمقدم کرے گا جو ابتدا ہی سے اس پر یقین رکھتے ہیں۔

### ڈیجیٹل آزادی اور کریئیٹرز کے حقوق

HRNW کے مطابق نئے عالمی پلیٹ فارمز کی آمد سے **ڈیجیٹل اظہارِ رائے، کریئیٹرز کے معاشی مواقع اور آن لائن کمیونٹیز تک رسائی** کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم عالمی توسیع کے ساتھ صارفین کی رازداری، مواد کی شفاف پالیسی، منصفانہ معاوضے اور کریئیٹرز کے حقوق کا تحفظ بھی اہم ہوگا۔

اگر بلی بلی مغربی اور دیگر عالمی مارکیٹوں میں صارفین اور کریئیٹرز کی تعداد بڑھانے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو آن لائن ویڈیو کے شعبے میں مسابقت مزید بڑھ سکتی ہے۔ تاہم فی الحال **0.70 ڈالر فی ہزار ویوز** کی مبینہ ادائیگی کو بلی بلی کی حتمی عالمی کریئیٹر پالیسی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

### Support HRNW

انسانی حقوق، ڈیجیٹل آزادی، آزادیٔ اظہار اور ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں۔

[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

### Disclaimer

یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور میڈیا و سوشل میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ بلی بلی کی جانب سے فی ہزار ویوز 0.70 امریکی ڈالر کی مبینہ ادائیگی کی باضابطہ اور حتمی تصدیق دستیاب نہیں، اس لیے اسے یقینی آمدنی یا عالمی کریئیٹرز کے لیے مقررہ ادائیگی کی شرح تصور نہ کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں