**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** نوجوان تاجر اور آئی بی اے گریجویٹ **میر رضا علی** کی پراسرار موت کی تحقیقات کے لیے سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس **عمر سیال** پر مشتمل جوڈیشل کمیشن کی پہلی سماعت ہوئی، جس میں کمیشن نے کیس سے متعلق اہم معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے **ایک لاکھ روپے انعام** مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سماعت کے دوران میر رضا کے والد **میر حسین، والدہ اور ہمشیرہ** کمیشن کے سامنے پیش ہوئے، جبکہ وکیل **جبران ناصر** کو بھی روسٹرم پر طلب کیا گیا۔
جبران ناصر نے کمیشن کو ابتدائی معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ میر رضا **28 جولائی کی رات تقریباً 4 بجے** گھر سے نکلے اور آخری مرتبہ صبح ساڑھے 4 بجے سی سی ٹی وی میں زندہ دیکھے گئے۔ ان کے مطابق میر رضا کی لاش **29 جولائی** کو جناح اسپتال منتقل کی گئی اور اسی روز پوسٹ مارٹم کیا گیا۔
وکیل کے مطابق لاش پولیس کارروائی کے بغیر اسپتال منتقل کی گئی، جبکہ پوسٹ مارٹم اسامہ شیخ نے کیا، جو اس وقت میڈیکو لیگل آفیسر تھے۔
جبران ناصر نے کہا کہ میر رضا کی لاش ملنے سے قبل ہی اغوا کا مقدمہ درج کیا جاچکا تھا، تاہم اہل خانہ کو اب تک مکمل تفتیشی ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا۔
### کمیشن: انکوائری اور تفتیش میں فرق ہے
جسٹس عمر سیال نے واضح کیا کہ **انکوائری اور انویسٹی گیشن الگ عمل ہیں**۔ ان کے مطابق کمیشن اپنے ٹی او آرز کے تحت تحقیقات میں نقائص، پولیس کی کارکردگی اور ممکنہ غفلت کا جائزہ لے گا، تاہم مقدمے کی براہِ راست تفتیش کمیشن کا کام نہیں۔
جسٹس عمر سیال نے کہا کہ کمیشن کی کارروائی سب کے سامنے ہوگی اور اسے روایتی بند کمرہ کمیشن کی طرح نہیں چلایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن بغیر کسی خوف کے کارروائی کرے گا اور اٹھائے گئے سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کرے گا۔
میر رضا کے والد میر حسین نے کمیشن کے سامنے موجودہ تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کیا، جس پر جسٹس عمر سیال نے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خاندان کی تکلیف کا احساس ہے اور اہل خانہ کو کیس کے انجام اور closure کی ضرورت ہے۔
### معلومات دینے والے کے لیے ایک لاکھ روپے انعام
جوڈیشل کمیشن نے عوام سے کیس سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے **اردو، انگریزی اور سندھی اخبارات میں اشتہار شائع** کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
جسٹس عمر سیال کے مطابق جو شخص میر رضا کیس سے متعلق اہم معلومات رکھتا ہے، وہ کمیشن سے رابطہ کرسکے گا۔ کمیشن کی جانب سے آفیشل ای میل اور واٹس ایپ نمبر بھی جاری کیے جائیں گے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ **اہم اور قابلِ عمل معلومات فراہم کرنے والے شخص کو ایک لاکھ روپے انعام** دیا جائے گا۔ لاش ملنے کے مقام پر بھی کمیشن کے نوٹس چسپاں کیے جائیں گے۔
### پولیس افسران اور ڈاکٹروں کا ریکارڈ طلب
کمیشن نے سندھ حکومت سے میر رضا کیس سے منسلک تمام **پولیس افسران اور ڈاکٹروں کی فہرست** طلب کرلی ہے۔
کمیشن نے تمام شواہد، گواہان کے بیانات، میڈیکل رپورٹس اور اصل دستاویزات پیش کرنے کی ہدایت بھی کی ہے، جبکہ رجسٹرار کو کمیشن کو مطلوب تمام سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
جسٹس عمر سیال نے کہا کہ یہ معاملہ صرف میر رضا کا نہیں بلکہ ہر اس شخص کا ہے جو عزت کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کی کوشش ہوگی کہ مستقبل میں کسی اور میر رضا کے ساتھ ایسا واقعہ پیش نہ آئے۔
جسٹس عمر سیال نے یہ بھی واضح کیا کہ کمیشن کی مدت کے دوران وہ کسی فریق سے ملاقات نہیں کریں گے اور کمیشن کی کارروائی میں غیر جانب داری برقرار رکھی جائے گی۔
### اہل خانہ کا احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے خلاف مقدمات پر ردعمل
سماعت کے بعد میر رضا کے اہل خانہ اور جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان نوجوانوں کے خلاف مقدمات درج کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا جو میر رضا کے لیے احتجاج اور آواز اٹھا رہے تھے۔
اہل خانہ نے کہا کہ مقدمات میں نامزد نوجوان ان کی مدد کررہے تھے اور وہ ان نوجوان وکلا کے شکر گزار ہیں جو ان کی قانونی مدد کررہے ہیں۔
### میر رضا کیس: اب تک کیا سامنے آیا؟
کراچی کے **25 سالہ نوجوان تاجر اور آئی بی اے گریجویٹ میر رضا علی** 28 جولائی کو فیروز آباد کے علاقے سے پراسرار طور پر لاپتہ ہوئے تھے، جبکہ اگلے روز ان کی لاش گلستانِ جوہر میں ایک گیسٹ ہاؤس کے قریب سے ملی تھی۔
پولیس کی جانب سے ابتدائی طور پر واقعے کو خودکشی قرار دینے کی کوشش کی گئی، تاہم اہل خانہ کے اصرار اور عدالتی حکم پر **8 اگست کو قبر کشائی کے بعد دوبارہ پوسٹ مارٹم** کیا گیا، جس میں جسم پر تشدد اور متعدد چوٹوں کے شواہد سامنے آئے۔
ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق جسم پر گولی لگنے کا نشان، پسلیوں کے فریکچر، سر اور چہرے پر زخم، دائیں ران پر فریکچر اور دیگر چوٹوں کے شواہد پائے گئے۔
بعد ازاں کراچی پولیس سرجن نے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں **14 اہم خامیوں** کی نشاندہی کی، جن میں لاش کا ایکسرے نہ ہونا، فائرنگ کے بارودی ذرات کے لیے ہاتھوں کے نمونے نہ لینا، زخموں کی مناسب فارنزک پیمائش اور تصاویر نہ بنانا اور ڈی این اے نمونہ حاصل نہ کرنا شامل تھا۔
ابتدائی طور پر فیروز آباد تھانے میں اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں پوسٹ مارٹم اور دیگر شواہد کی بنیاد پر مقدمے میں **قتل کی دفعہ 302** بھی شامل کردی گئی۔
تفتیش کے دوران متعدد افراد سے پوچھ گچھ کی گئی اور خصوصی تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دی گئی۔ بعض سی سی ٹی وی فوٹیجز میں ایک مشکوک موٹرسائیکل کو لاش ملنے کے مقام پر مختصر وقت کے لیے رکتے دیکھا گیا، جس کے بعد پولیس نے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا۔
### اہم سوالات تاحال برقرار
میر رضا کیس میں مبینہ طور پر ضائع ہونے والے شواہد، پوسٹ مارٹم رپورٹس میں تضادات، اسلحے کی عدم برآمدگی، سی سی ٹی وی شواہد اور تفتیش میں سامنے آنے والی خامیاں اب بھی اہم سوالات ہیں۔
جوڈیشل کمیشن نے اپنی پہلی سماعت میں متعلقہ اداروں اور افسران سے ریکارڈ طلب کرتے ہوئے آئندہ کارروائی کے لیے اہم اقدامات کی ہدایات جاری کردی ہیں۔
**میر رضا کی موت کے اصل حقائق اور ذمہ داروں کا تعین اب بھی تفتیش اور عدالتی عمل کا منتظر ہے۔**
### Support HRNW
انسانی حقوق، انصاف، قانون کی حکمرانی اور ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں۔
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### Disclaimer
یہ خبر عدالتی کارروائی، فراہم کردہ معلومات، میڈیکل رپورٹس سے متعلق بیان کردہ تفصیلات اور متعلقہ فریقین کے مؤقف کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ کسی بھی شخص کو عدالت کی جانب سے جرم ثابت ہونے تک ملزم قرار نہیں دیا جاسکتا، جبکہ میر رضا کی موت کی حتمی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین متعلقہ تفتیشی و عدالتی عمل کے ذریعے ہوگا۔


