9

قاضی احمد سے لاپتہ خاتون کی بازیابی کی درخواست، سندھ ہائی کورٹ کا ڈی آئی جی کو طلبی کا حکم

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)**، سندھ ہائی کورٹ میں قاضی احمد سے لاپتہ خاتون ریما کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جہاں عدالت نے لاپتہ خاتون کو بازیاب کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے ڈی آئی جی شہید بینظیر آباد کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے متعلقہ پولیس سے بھی وضاحت طلب کرلی۔ سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ سیشن عدالت کے حکم کے باوجود درخواست گزار کا بیان ریکارڈ کیوں نہیں کیا گیا۔

درخواست گزار شہناز بیگم نے عدالت کو بتایا کہ علاقے کے بااثر ملزمان نے ان کی بیٹی ریما اور نواسی دعا کو مئی میں گھر سے مبینہ طور پر اغوا کرکے کراچی منتقل کردیا تھا۔ ان کے مطابق نواسی دعا اغوا کاروں کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی، تاہم ان کی بیٹی ریما تاحال لاپتہ ہے۔

درخواست گزار کے مطابق سیشن عدالت نے پولیس کو ان کا بیان ریکارڈ کرکے قانونی کارروائی کا حکم دیا تھا، لیکن پولیس نے عدالتی حکم کے باوجود بیان ریکارڈ نہیں کیا۔ شہناز بیگم نے الزام عائد کیا کہ جب وہ شکایت لے کر پولیس کے پاس گئیں تو انہیں دھکے دے کر وہاں سے نکال دیا گیا۔

دوسری جانب درخواست گزار کی نواسی دعا نے عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا کہ اسے اور اس کی والدہ کو علاقے کے بااثر افراد نے مبینہ طور پر اغوا کیا تھا۔ متاثرہ بچی کے مطابق انہیں ایک بند کمرے میں رکھا جاتا تھا اور وہ واش روم جانے کے بہانے وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئی۔

کیس میں سامنے آنے والی تفصیلات نے خواتین اور بچوں کے تحفظ، مبینہ اغوا، پولیس کی جانب سے عدالتی احکامات پر عملدرآمد اور متاثرہ خاندان کو انصاف تک رسائی کے حوالے سے اہم انسانی حقوق کے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ عدالت کی جانب سے ڈی آئی جی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرنا اور متعلقہ پولیس سے وضاحت طلب کرنا اس بات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے کہ لاپتہ خاتون کی بازیابی اور معاملے کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔

**Support HRNW:** انسانی حقوق، انصاف اور اہم قومی و عالمی خبروں کی آزادانہ رپورٹنگ جاری رکھنے کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں:
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

**Disclaimer:** یہ خبر دستیاب معلومات، عدالتی کارروائی اور فریقین کے مؤقف کی بنیاد پر شائع کی گئی ہے۔ مبینہ الزامات حتمی عدالتی فیصلے تک الزامات ہی تصور ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں