کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) سندھ ہائی کورٹ نے جہیز کے سامان اور زیورات کی واپسی سے متعلق فیملی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت کی، جس کے بعد عدالتِ عالیہ نے فیملی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے جہیز کے سامان کی واپسی کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت کے معزز جج جسٹس حسن اکبر نے اس درخواست کا تفصیلی تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔
### **کیس کے پس منظر اور حقائق:**
تحریری حکم نامے کے مطابق فریقین کی شادی سال 2002 میں ہوئی تھی اور شادی کے وقت خاتون کے والدین کی جانب سے دیا گیا جہیز، زیورات اور دیگر سامان شوہر اور اس کے اہل خانہ کے قبضے میں تھا۔ خاتون کا موقف تھا کہ ان کے زیورات شوہر اور اس کی والدہ کے نام پر رجسٹرڈ بینک کے سیکیورٹی لاکر میں رکھے گئے تھے۔ خاتون کے مطابق وہ سال 2006 میں اپنے دو بیٹوں کے ہمراہ گھر سے نکلی تھیں، جس کے بعد سال 2007 میں شوہر نے انہیں طلاق دے دی۔
### **فریقین کے متضاد بیانات اور عدالتی مشاہدات:**
حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ شوہر نے عدالت کے سامنے جہیز کی فہرست کو خود ساختہ اور من گھڑت قرار دیا تھا، تاہم اپنے ہی تحریری جواب میں اس نے فہرست کے ایک بڑے حصے کو تسلیم کرتے ہوئے غیر طلائی اشیاء (جو سونے کی نہیں ہیں) واپس کرنے پر آمادگی بھی ظاہر کی تھی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ کوئی بھی فریق ایک ہی وقت میں کسی فہرست کے کچھ حصوں کو سچا تسلیم اور کچھ حصوں کو جعلی یا من گھڑت قرار نہیں دے سکتا۔
جہاں تک زیورات کا تعلق ہے، تو تحریری حکم نامے کے مطابق سیکیورٹی لاکر شوہر اور اس کی والدہ کے نام پر رجسٹرڈ تھا اور خاتون نے گھر چھوڑنے سے قبل کے آخری دو ماہ کے دوران اس لاکر کو بالکل استعمال نہیں کیا تھا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر خاتون زیورات اپنے ہمراہ نکال کر لے گئی ہوتیں، تو لاکر کے اصل مالکان (شوہر یا ساس) کی جانب سے بینک یا لاکر انتظامیہ کو فوری طور پر کوئی شکایت درج کروائی جاتی، جو کہ نہیں کروائی گئی۔
### **ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار اور حتمی فیصلہ:**
جسٹس حسن اکبر نے حکم نامے میں تحریر کیا کہ فیملی کورٹ نے تمام دستیاب شواہد، بینک لاکر کے ریکارڈ اور فریقین کے متضاد موقف کا انتہائی باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد ہی یہ فیصلہ دیا تھا۔ سندھ ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ ہائی کورٹ ایک اپیلٹ فورم کے طور پر نچلی عدالت کے طے کردہ حقائق کا ازسرنو (شروع سے) جائزہ نہیں لے سکتی۔ اس نوعیت کے فیصلوں میں عدالتی مداخلت صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب فیملی کورٹ کے فیصلے میں کوئی واضح قانونی غلطی یا دائرہ اختیار (Jurisdiction) کی بڑی کوتاہی ثابت ہو۔ چونکہ ایسی کوئی غلطی سامنے نہیں آئی، اس لیے فیملی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا جاتا ہے۔
—
> **ہماری مہم کا حصہ بنیں:**
> انسانی حقوق اور عوامی مسائل کے لیے بروقت آواز اٹھانے کے مشن میں **HRNW** (دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز پورٹل) کا ساتھ دیں۔ آپ کا تعاون ہمیں سچائی کو فروغ دینے اور مظلوموں کی آواز بننے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
> **تعاون کے لیے یہاں کلک کریں:** [HRNW Support Link](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)


