**کراچی (ایچ آر این ڈبلیو):** امریکہ کے معروف بین الاقوامی سلامتی تھنک ٹینک ‘اسٹمسن سینٹر’ کی سینئر محقق اور جنوبی ایشیا پروگرام کی ڈائریکٹر الزبتھ تھرلکلڈ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک نئی اور تباہ کن جنگ کے خطرات سے خبردار کر دیا ہے۔
### **جنگ کے ممکنہ اسباب اور خطرات**
امریکی جریدے ‘فارن افیئرز’ میں شائع ہونے والے اپنے تفصیلی مضمون میں الزبتھ تھرلکلڈ نے تجزیہ کیا ہے کہ:
* دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اس نہج پر ہے کہ ایک معمولی چنگاری بھی بڑے پیمانے پر عسکری تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
* جدید ہتھیاروں کی دوڑ، نئی عسکری حکمت عملی اور بڑھتا ہوا اعتماد خطے کو خطرناک موڑ کی طرف دھکیل رہا ہے۔
* سوشل میڈیا کا بڑھتا اثر اور غلط معلومات (Misinformation) جنگ کی آگ کو تیزی سے پھیلانے کا باعث بن سکتی ہیں، جس سے سفارتی کوششیں محدود ہو جائیں گی۔
### **عالمی اثرات اور سفارتی چیلنجز**
مضمون میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ اس ممکنہ تنازع میں چین اور امریکہ کی شمولیت کی صورتحال اسے مزید پیچیدہ بنا دے گی۔ محقق کے مطابق، اگر تصادم شروع ہوا تو اسے روکنا واشنگٹن کے لیے بھی ایک انتہائی مشکل چیلنج ہوگا، کیونکہ تیزی سے بدلتی صورتحال میں روایتی سفارت کاری کے مواقع کم ہو جائیں گے۔
—
> **انسانی حقوق کی آواز بنیں:**
> عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور سچائی کا ساتھ دینے کے لیے **HRNW** (دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز پورٹل) کے مشن کا حصہ بنیں۔ آپ کا تعاون ہمیں سچائی کے فروغ اور مظلوموں کی آواز بننے کے سفر کو جاری رکھنے کے قابل بناتا ہے۔
> **مدد کے لیے اس لنک پر کلک کریں:** [HRNW Support Link](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)


