متنازعہ چھ کینالز کے خلاف بھرپور جدوجہد پر وکلا کو خراج تحسین

ملیر (ایچ آراین ڈبلیو) ڈسٹرکٹ پریس کلب ملیر کی جانب سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ملیر بار ایسوسی ایشن کے نومنتخب عہدیداران کو خوش آمدید کہا گیا۔ اس موقع پر متنازعہ چھ کینالز کے خلاف بھرپور جدوجہد پر وکلا کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ تقریب میں پریس کلب ملیر کے صدر حنیف سومرو، دیگر عہدیداران اور صحافیوں نے شرکت کی اور وکلا کو اجرک کے تحفے پیش کیے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملیر بار ایسوسی ایشن کے صدر ارشاد شر نے کہا کہ چھ متنازعہ کینالز کے خلاف وکلا نے نہ صرف ملیر بلکہ پورے سندھ میں تاریخی جدوجہد کی، جس میں بابڑلو سمیت کئی شہروں میں احتجاج کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس تحریک میں سیاسی، سماجی اور سول سوسائٹی کے افراد نے بھی وکلا کا بھرپور ساتھ دیا اور اس عوامی دباؤ کے باعث حکومت کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کارپوریٹ فارمنگ اور پیکا ایکٹ جیسے دیگر مسائل پر بھی حکومت سے رابطے میں ہیں اور امید ہے کہ ان معاملات پر بھی کامیابی حاصل ہوگی۔ ارشاد شر نے کہا کہ ملیر میں وکلا نے جس عزم اور حوصلے سے دھرنے دیے، اس میں صحافیوں نے بھی مثالی کردار ادا کیا، جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ پریس کلب ملیر کے صدر حنیف سومرو نے کہا کہ چاہے ملیر کے مسائل ہوں یا سندھ کے دیگر اہم ایشوز، پریس کلب ملیر کے صحافیوں نے ہمیشہ اپنا کردار نبھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھ کینالز کے معاملے پر بھی صحافیوں نے بابڑلو اور ملیر میں دھرنوں میں شرکت کی اور ان کی موثر کوریج کے ذریعے عوامی آواز کو ایوانوں تک پہنچایا۔ ملیر بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ ایاز چانڈیو نے کہا کہ ہم نے بابڑلو دھرنے سے لے کر سندھ کے مختلف شہروں میں ہونے والے دھرنوں کی مکمل پیروی کی، خاص طور پر لنک روڈ ملیر پر ہونے والے دھرنے میں پولیس نے وکلا پر وحشیانہ تشدد کیا جس میں کئی وکلا زخمی ہوئے، مگر ہم پیچھے نہیں ہٹے اور دھرنے کو مزید مضبوط کیا۔ یہی وجہ بنی کہ وفاقی حکومت کو چھ کینالز سے متعلق اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔ تقریب کے آخر میں ڈسٹرکٹ پریس کلب ملیر کے صحافیوں کی جانب سے ملیر بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران اور سینئر وکلا کو اجرک کے تحفے پیش کیے گئے اور ان کی جدوجہد کو سراہا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں