کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) پینشن واجبات کی عدم ادائیگی کے معاملے پر عدالت نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبیداللہ ملک کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست پر اہم پیش رفت کرتے ہوئے فردِ جرم عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
عدالت نے ڈریپ کے وکیل کی جانب سے مہلت کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو توہینِ عدالت کیس میں باقاعدہ پراسیکیوٹر مقرر کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے سی ای او ڈریپ کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے۔
درخواست گزار شاہ مظفر امام کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کی مجموعی سرکاری سروس 34 سال پر مشتمل ہے، جن میں سے 28 سال وزارتِ صحت میں خدمات انجام دینے کے بعد ان کا تبادلہ ڈریپ میں کیا گیا۔ وکیل کے مطابق ڈریپ نے ریٹائرمنٹ کے بعد درخواست گزار کی سابقہ سروس کو شامل کیے بغیر پینشن واجبات کی ادائیگی روک دی، جو عدالتی احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ درخواست گزار کی گزشتہ سروس کیوں شامل نہیں کی گئی؟ جس پر ڈریپ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈریپ کے موجودہ قانون میں سابقہ سروس کو شامل کرنے کی اجازت نہیں، تاہم اس حوالے سے قانون سازی کی جا رہی ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالتی احکامات کو کافی وقت گزر چکا ہے، اس کے باوجود اب تک قانون سازی کیوں نہیں کی گئی؟ عدالت نے واضح کیا کہ اب اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھا جائے گا۔
عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر سی ای او ڈریپ ہر صورت عدالت میں پیش ہوں، جبکہ ایس ایس پی اسلام آباد کو سی ای او کی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے۔


