پاکستان اس وقت 138 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ یہ کوئی محض عدد نہیں، بلکہ ایک ایسی زنجیر ہے جس نے قومی معیشت کو جکڑ رکھا ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں قرضوں پر سود کی ادائیگی میں 84 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔ تین سال پہلے جو سود تقریباً ایک ارب 91 کروڑ ڈالر تھا، وہ اب بڑھ کر تقریباً 3 ارب 59 کروڑ ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ یعنی ہم نہ صرف قرض لے رہے ہیں بلکہ ہر گزرتے سال کے ساتھ سود کی صورت میں زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں۔
گزشتہ مالی سال میں سود سمیت قرضوں کی واپسی پر 13 ارب 32 کروڑ ڈالر خرچ کیے گئے۔ ان میں سے تقریباً 9 ارب 73 کروڑ ڈالر اصل قرض کی واپسی اور ساڑھے تین ارب ڈالر سے زائد صرف سود کی مد میں ادا کیے گئے۔ یہ وہ رقوم ہیں جو صحت، تعلیم، پینے کے صاف پانی، روزگار اور انفراسٹرکچر پر خرچ ہو سکتی تھیں، مگر وہ قرضوں کی نذر ہو گئیں۔ یہ صورتحال اس امر کی واضح علامت ہے کہ قرضوں پر مبنی معیشت کا موجودہ ڈھانچہ نہ صرف غیر پائیدار ہے بلکہ خطرناک حد تک دباؤ پیدا کر چکا ہے۔
ایسے سنگین مالی پس منظر میں اگر یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ حکومتِ پنجاب نے مبینہ طور پر 10 نشستوں پر مشتمل ایک لگژری بزنس جیٹ ویٹ لیز کے تحت حاصل کیا ہے، تو سوال اٹھنا فطری ہے۔ ویٹ لیز کا مطلب ہے کہ طیارہ، عملہ، مرمت اور انشورنس سب کچھ لیز فراہم کرنے والی کمپنی مہیا کرتی ہے جبکہ ادائیگی سرکاری خزانے سے ہوتی ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق اس معاہدے کی مجموعی لاگت تقریباً 50 ملین ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ فی گھنٹہ ایندھن کی لاگت تقریباً 28 ہزار ڈالر اور مینٹیننس تقریباً 5 ہزار ڈالر بتائی جاتی ہے۔ یعنی ہر گھنٹے کی پرواز عوام کے ٹیکس سے ہزاروں ڈالر نگل رہی ہے۔
یہاں بنیادی سوال طیارے کے وجود کا نہیں بلکہ ترجیحات کا ہے۔ جب ملک قرضوں کے بوجھ تلے کراہ رہا ہو، جب آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں کے سامنے سخت شرائط قبول کی جا رہی ہوں، جب عوام مہنگی بجلی، گیس اور پٹرول کے بوجھ تلے دبے ہوں، تو کیا ایسے میں 50 ملین ڈالر کے لگژری جیٹ کا فیصلہ عوامی مفاد سے ہم آہنگ ہے؟ کیا اس اقدام سے کفایت شعاری کا پیغام جاتا ہے یا اشرافیہ کی آسائش کا؟
شفافیت کے حوالے سے بھی کئی سوالات جواب طلب ہیں۔ کیا اس معاہدے کے لیے کھلا اور مسابقتی ٹینڈر جاری کیا گیا؟ کیا صوبائی کابینہ اور محکمہ خزانہ نے مکمل مالی اثرات کا جائزہ لے کر منظوری دی؟ کیا چارٹر سروس اور ویٹ لیز کے درمیان تقابلی تجزیہ کیا گیا؟ سالانہ متوقع استعمال کیا ہے، اور کیا وہ اس بھاری اخراجات کا جواز فراہم کرتا ہے؟ اگر طیارہ محدود سرکاری دوروں کے لیے استعمال ہونا ہے تو کیا ضرورت کے مطابق چارٹر لینا زیادہ مناسب اور کم خرچ راستہ نہ ہوتا؟
دنیا کے بیشتر ممالک سرکاری فضائی بیڑے کو محدود رکھتے ہیں، یا ریاستی اداروں کے زیر انتظام طیارے استعمال کرتے ہیں، یا ضرورت پڑنے پر چارٹر سروس اختیار کرتے ہیں تاکہ اخراجات پر قابو رکھا جا سکے۔ مہنگے ویٹ لیز لگژری جیٹ کا انتخاب اسی صورت میں قابلِ دفاع ہو سکتا ہے جب اس کے استعمال کے اعداد و شمار، لاگت اور فوائد مکمل شفافیت کے ساتھ عوام کے سامنے رکھے جائیں۔
یہ معاملہ کسی ایک حکومت یا ایک فیصلے سے بڑھ کر نظامی سوچ کا عکاس ہے۔ جب تک قومی وسائل کے استعمال میں ترجیحات واضح اور عوامی مفاد مقدم نہیں ہوگا، قرضوں کا بوجھ کم نہیں ہوگا۔ قرض لینا شاید وقتی ضرورت ہو سکتا ہے، مگر عیاشی اس کا جواز نہیں بن سکتی۔
حکومتِ پنجاب پر لازم ہے کہ وہ اس مبینہ معاہدے کی مکمل تفصیلات، مجموعی مالی ذمہ داری، سالانہ آپریٹنگ اخراجات، طیارے کی تکنیکی نوعیت اور اس فیصلے کی ٹھوس توجیہ عوام کے سامنے پیش کرے۔ کیونکہ آخرکار یہ قرض، یہ سود اور یہ اخراجات عوام ہی ادا کرتی ہے۔ اور جب عوام ادائیگی کرتی ہے تو سوال پوچھنا بھی ان کا حق ہے — بلکہ فرض ہے۔
138 ارب ڈالر کا قرض اور اربوں ڈالر کا سود ادا کرنے والی قوم اگر شفافیت اور احتساب کا مطالبہ کرے تو یہ کوئی سیاسی نعرہ نہیں، بلکہ معاشی بقا کی شرط ہے۔


