77

طاقتوروں کی قانونی چھتری اور معاشرتی انصاف کا بحران

پاکستان میں قانون کی موجودہ صورتحال کسی المیے سے کم نہیں، جہاں انصاف کی ترازو اکثر طاقت کے پلڑے کی طرف جھکتی نظر آتی ہے۔ عوام کے دلوں میں پیدا ہونے والی مایوسی اس وقت مزید گہری ہو جاتی ہے جب وہ دیکھتے ہیں کہ نظامِ عدل کی تمام تر سختیاں صرف کمزور اور لاچار طبقے کے لیے مخصوص ہیں، جبکہ اقتدار اور اختیار کے ایوانوں میں بیٹھے افراد کے لیے قانون موم کی ناک بن جاتا ہے۔ حال ہی میں کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو مونس علوی کے کیس نے اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ صوبائی محتسب سندھ نے ایک خاتون ملازمہ کو ہراساں کرنے کے الزام میں انہیں عہدے سے برطرف کرنے اور بھاری جرمانے کا جو فیصلہ صادر کیا تھا، اسے خواتین کے تحفظ کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا تھا۔ مگر قانونی پیچیدگیوں اور اثر و رسوخ کے کھیل نے اس فیصلے کی روح ہی فنا کر دی۔ پہلے عدالتِ عالیہ سے حکمِ امتناع اور پھر گورنر سندھ کی جانب سے دی جانے والی “کلین چٹ” نے یہ ثابت کر دیا کہ یہاں الزام کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو، اگر ملزم کا منصب بلند ہے تو قانون کے راستے اس کے لیے ہموار کر دیے جاتے ہیں۔

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس نظام کی بنیادوں میں بسا ہوا وہ تضاد ہے جو دہائیوں سے اس ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ کس طرح لاہور کی مصروف شاہراہ پر دو شہریوں کو دن دیہاڑے قتل کرنے والا امریکی کارندہ ریمونڈ ڈیوِس خون بہا کے نام پر باعزت رہا ہو کر اڑ گیا، اور کس طرح شاہزیب خان کے قاتل شاروخ جتوئی نے اپنے خاندانی اثر و رسوخ کے بل بوتے پر قانون کے طویل ہاتھوں کو مفلوج کر دیا۔ اسی طرح جب ہم سیاسی منظرنامے پر نظر ڈالتے ہیں تو 26 ویں ترمیم جیسے اقدامات سامنے آتے ہیں، جن کے بارے میں عوامی تاثر یہی ہے کہ یہ صرف اشرافیہ کو قانونی گرفت سے مستقل استثنیٰ فراہم کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری ہوں یا دیگر طاقتور شخصیات، انہیں ملنے والا غیر معمولی ریلیف ایک عام پاکستانی کے لیے کسی معجزے سے کم نہیں ہوتا، جو برسوں تک ایک چھوٹی سی ایف آئی آر یا معمولی تنازعے کے حل کے لیے کچہریوں کی دھول پھانکتا رہتا ہے۔

اسلامی تعلیمات اور انسانی تاریخ کا نچوڑ یہی ہے کہ معاشرے کی بقا صرف اور صرف عدل و انصاف کی برابری میں پنہاں ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے اس تباہی سے ڈرایا تھا جو ان قوموں کا مقدر بنی جنہوں نے کمزور پر قانون نافذ کیا اور طاقتور کو استثنیٰ دیا۔ حضرت علیؓ کا یہ قول کہ “حکومت کفر کے ساتھ تو چل سکتی ہے مگر ظلم کے ساتھ نہیں” آج ہمارے لیے ایک نوشتہ دیوار ہے۔ جب ریاست کا عام شہری یہ دیکھتا ہے کہ اس کی بیٹی کی عزت یا اس کی جان کی قیمت کسی طاقتور کے عہدے کے سامنے ہیچ ہے، تو وہ ریاست سے بدظن ہونے لگتا ہے۔ یہ احساسِ محرومی ہی معاشرے میں انارکی، بے چینی اور شورش کو جنم دیتا ہے۔

پاکستان کے “آئین کا آرٹیکل 25” کہتا ہے کہ “تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اور قانون کے یکساں تحفظ کے حقدار ہیں۔” لیکن یہ سب اب کتابی باتیں ہیں، گورنر سندھ نے ثابت کر دیا کہ وہ عوام کے نمائندے نہیں بلکہ طاقتوروں کے مہرے ہیں، اس لئے انہوں نے ایک طاقتور شخص کو اپنی دوستی نبھانے کے لئے کلین چٹ دی، حالانکہ محتسب خود ایک عدالت ہوتا ہے اس لئے عدالت کا حکم نامہ کی اپیل کسی سیاسی عہدہ رکھنے والے کے سامنے رکھنا خود قانون کی توہین کے زمرہ میں آتا ہے

پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا راستہ کسی نئی ترمیم یا بلند بانگ دعووں میں نہیں، بلکہ اس ایک نکتے میں چھپا ہے کہ کیا ہم مونس علوی جیسے بااثر افراد اور گلی محلے کے ایک عام شہری کو انصاف کے کٹہرے میں برابر کھڑا کرنے کی ہمت رکھتے ہیں یا نہیں؟ اگر قانون کا اطلاق شخصیت دیکھ کر ہوتا رہا، تو عوام کا اعتماد اس بوسیدہ نظام سے مکمل طور پر اٹھ جائے گا۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ انصاف کی شفافیت کو ہر قسم کے سیاسی و انتظامی دباؤ سے پاک کیا جائے، کیونکہ جس معاشرے میں انصاف بکتا ہو یا اثر و رسوخ کے تابع ہو، وہاں امن محض ایک خواب بن کر رہ جاتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقتور کا احتساب ہی وہ واحد راستہ ہے جو اس ملک کو ناانصافی کے اندھیروں سے نکال کر ایک روشن مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں