کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ کی میزبانی میں دریائے سندھ بچاؤ تحریک میں شامل جماعتوں کا ایک اہم اجلاس تحریک کے کنوینئر سید زین شاہ کی صدارت میں عادل ہاؤس کراچی میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں جی ڈی اے کے رہنما پیر سید صدرالدین شاہ راشدی، صفدر عباسی، حسنین مرزا، سردار رحیم، راحیلا مگسی، پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ، جنرل سیکریٹری ڈاکٹر مسرور سیال، کراچی کے صدر راجا اظہر، جماعت اسلامی کے محمد یوسف، مجاہد چنا، جئے سندھ محاذ کے ریاض چانڈیو، عوامی جمہوری پارٹی کے پرویز ابڑو، حریف چانڈیو، قومی عوامی تحریک کے مظہر راہوجو، فرحان لاڑک، اور نیشنل پیپلز پارٹی کے مسرور جتوئی سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
اجلاس میں 11 مئی کو کراچی میں دریائے سندھ بچاؤ تحریک کی جانب سے آئین و قانون کی بالادستی کے قیام کے لیے ایک بڑے جلسہ عام کے انعقاد کا اعلان کیا گیا۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سندھ کی عوام کی پرعزم جدوجہد کے باعث دریائے سندھ پر بننے والے نئے کینالوں کا متنازعہ منصوبہ وقتی طور پر موخر کیا گیا ہے، جو کہ عوام کی ایک بڑی کامیابی ہے، تاہم حکومت کی سندھ دشمنی ختم نہیں ہوئی۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ متنازعہ کینالوں کا منصوبہ وقتی طور پر موخر ہونا سندھ کے باشعور عوام، ، کسانوں، وکلاء، طلباء، مزدوروں اور صحافیوں کی مشترکہ جدوجہد کا نتیجہ ہے۔
اجلاس میں سی سی آئی کے اجلاس میں جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سندھ کے حقوق کی جنگ کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
شرکاء نے کہا کہ سی سی آئی نے آئین کے آرٹیکل 155 (2) کے برخلاف فیصلہ دے کر دریائے سندھ پر متنازعہ کینالوں کو بیوروکریسی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے، اور یہ خطرہ موجود ہے کہ کسی بھی وقت دوبارہ سندھ کے پانی پر ڈاکا ڈالنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
اجلاس میں سندھ کی عوام کو خراج تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے خوف کی زنجیریں توڑ کر اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ کارپوریٹ فارمنگ کے ذریعے بیرونِ ممالک کی کمپنیوں کو دی گئی زمینیں فوری طور پر منسوخ کی جائیں۔ اگر فوڈ سیکیورٹی کا خدشہ ہے تو سندھ، پنجاب اور ملک بھر کی زرخیز زمینوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مؤثر بنایا جائے۔سندھ حکومت کی جانب سے دی کارپوریٹ فارمنگ کے لئے دی گئی زمینوں کی لیز کو فوری منسوخ کیا جائے۔
اجلاس میں دریائے سندھ پر متنازعہ کینالوں کی اجازت دینے پر پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو سندھ دشمن قرار دیتے ہوئے اُنہیں قومی غدار کہا گیا اور سندھ کی عوام سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا گیا۔
اجلاس کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ اصل طاقت عوام کے پاس ہے، اور جب عوام اپنے حقوق کے لیے میدان میں نکلتی ہے تو بڑے بڑے بت گر سکتے ہیں۔
فارم 47 کے ذریعے قائم جعلی حکومتوں کو مسترد کرتے ہوئے اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ عوام کے اصل نمائندوں کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔


