کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس نے یوسی چیئرمین عامر بھاشانی عرف عامر بھٹو کے اندھے قتل کا معمہ حل کر کے مرکزی ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
مورخہ 17 اپریل 2025 کو یوسی چیئرمین عامر بھاشانی کو فائرنگ کرکے ان کے کیمپ آفس گلشن ضیاء میں بےدردی سے قتل کیا گیا تھا، جس کا مقدمہ الزام نمبر 188/2025 بجرم دفعہ 302/34 r/w 7ATA تھانہ پاکستان بازارمیں مقتول کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔
ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی نے فوری طورپر جائے وقوعہ کا دورہ کیا، لواحیقین اور سیاسی عہدیداروں سے ملاقات کی اور وقوعے کا جائزہ لیتے ہوئے کرائم سین یونٹ کو طلب کیا اور ملزمان کی گرفتاری کے لئے ٹیم تشکیل دی۔
تشکیل کردہ ٹیم نے ایس پی منگھوپیر کی زیر نگرانی کیس کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کیا اور ٹیکنیکل و ہیومن انٹیلیجنس بیسڈ کاروائی کرتے ہوئے 02 ملزمان بنام شہباز عرف پرویز ولد تیور الدین اور شہزاد احمد ولد محمد سراج کو 02 پسٹلز (9 ایم ایم اور 30 بور) کے ہمراہ گرفتار کیا۔
گرفتارملزمان نے ابتدائی تفتیش کے دوران انکشاف کیاکہ ملزم شہزاد احمد برائے راست مقتول کے قتل میں ملوث ہے جبکہ گرفتار ملزم شہباز عرف پرویز مخبر ہے جس نے اپنے دیگر ساتھیوں کو مقتول عامر بھٹو کیمپ آفس میں موجود ہونے کی اطلاع دی ہے جس پر ملزمان نے منصوبہ بندی کے تحت فائرنگ کرکے قتل کیا۔
گرفتار ملزمان نے مزید انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ مقتول کے قتل کی منصوبہ بندی قتل سے ایک ہفتے قبل زمینی اور معاشی معاملات کی بناء پر کی گئی اور منصوبہ بندی میں عدم گرفتار ملزمان علی شاہ اور حماد صدیقی اورگرفتار ملزم شہزاد شامل تھا۔ اب تک کی تحقیقات اور گرفتار ملزمان سے موصالہ معلومات کے مطابق قتل کا ماسٹرمائینڈ عدم گرفتار ملزم علی شاہ ہے۔
ملزمان نے مزید بتایاکہ قتل کےروز ملزم علی شاہ اپنی گاڑی میں حماد صدیقی اور شہزاد کے ہمراہ کیمپ آفس /جائے وقوعہ کے قریب آیا، حماد صدیقی اور شہزاد گاڑی سے اتر کر قریبی ہوٹل پر بیٹھے اور 02 اجرتی قاتلوں کے آنے کا انتظار کرتے رہے جبکہ ملزم علی شاہ پوری واردات کے دوران اسی جگہ اپنی گاڑی میں موجود رہا۔
اجرتی قاتلوں کے آنے پر ملزمان حماد صدیقی اور شہزاد نے ریکی کرنے والے ملزم شہباز عرف پرویز کی نشاندہی پر یوسی چیئرمین عامر بھاشانی عرف عامر بھٹو پر فائرنگ کرکے اسے قتل کیا، بعدازاں ملزمان علی شاہ، حماد صدیقی اور شہزاد اپنی گاڑی جبکہ اجرتی قاتل اپنی موٹرسائیکلز پر فرار ہوگئے۔
گرفتار ملزمان کےخلاف سندھ اسلحہ ایکٹ کے تحت مقدمات کا اندراج کرلیا گیا ہے، جبکہ 04 فرار ملزمان کی گرفتاری کے لئے تشکیل کردہ ٹیم کی جانب سے کاروائیاں جاری ہیں۔


