پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں تاریخ کی سب سے زیادہ نشستیں خالی، 426 سیٹیں پُر نہ ہو سکیں

لاہور(ایچ آراین ڈبلیو) پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں پانچویں میرٹ لسٹ جاری ہونے کے باوجود 426 نشستیں خالی رہ گئیں۔ میڈیکل ایجوکیشن کے شعبے میں اس غیر معمولی صورتحال نے والدین اور تعلیمی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

ذرائع کے مطابق 109 امیدواروں نے ایم بی بی ایس میں داخلہ ہی نہیں لیا، جبکہ 317 طلبہ و طالبات نے داخلہ لینے کے بعد میڈیکل کالجز چھوڑ دیے۔ اس طرح مجموعی طور پر 426 سیٹیں خالی رہ گئیں جو کہ ایک ریکارڈ صورتحال ہے۔

تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ زی جنریشن نے مستقبل کے حالات کو دیکھتے ہوئے اس شعبے سے کنارہ کشی اختیار کرنا شروع کر دی ہے۔ والدین کے دباؤ کے باوجود نوجوانوں کو اب یہ احساس ہو رہا ہے کہ کروڑوں روپے فیس ادا کرنے کے بعد بھی بے روزگاری، کم تنخواہیں اور پیشہ ورانہ مشکلات ان کا مقدر بن سکتی ہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں 20 سے 30 ہزار کے قریب ڈاکٹرز بے روزگار ہیں، جس کی وجہ سے میڈیکل پیشہ اپنی کشش کھوتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ نہ لیا گیا تو آنے والے برسوں میں میڈیکل ایجوکیشن کے نظام کو بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں