وکلا ہڑتال: چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور وکلاء کے درمیان غیر معمولی مکالمہ

اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو) وکلا کی ہڑتال کے دوران چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور وکلاء کے درمیان عدالت میں ایک غیر معمولی اور توجہ طلب مکالمہ سامنے آیا ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے استفسار کیا کہ آج ہڑتال کس بات پر کی گئی ہے، کیونکہ ان کی عدالت میں تو معمول کے مطابق مقدمات کی پیشی جاری ہے۔ اس پر وکیل قیصر عباس گوندل نے مؤقف اختیار کیا کہ بار کے وکلاء کی گرفتاری کے خلاف آج ہڑتال کی گئی ہے۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کون سے وکلاء گرفتار ہوئے ہیں؟ جس پر وکیل قیصر عباس گوندل نے بتایا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو گرفتار کیا گیا ہے۔

اس موقع پر چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ایک اور اہم سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ انہیں وکلاء سمجھتے ہیں؟ چیف جسٹس کے اس استفسار پر وکیل قیصر عباس گوندل خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دے سکے۔

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ انہیں وکلاء سمجھتے ہیں تو آپ چیمبر میں آ کر اپنی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں۔

عدالتی حلقوں کے مطابق چیف جسٹس اور وکلاء کے درمیان ہونے والا یہ مکالمہ وکلا برادری اور قانونی حلقوں میں خاصی بحث کا باعث بن گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں