65

زچگی کے دوران ماں اور نومولود کی ہلاکت،ڈاکٹر سیتا رام کشن کی اہلیت پر سوالات

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) میرپورخاص کے پٹیل میٹرنٹی ہوم میں زچگی کے دوران ایک خاتون اور اس کے نومولود کی ہلاکت کے افسوسناک واقعے پر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے پی سی ہوٹل کراچی میں تفصیلی سماعت کی۔

سماعت میں ڈاکٹر سیتا رام کشن کی پیشہ ورانہ اہلیت، علاج کے طریقۂ کار اور مریضوں کی سلامتی سے متعلق اہم نکات زیرِ بحث آئے۔ یہ کیس میرپورخاص کے شہری محمد آصف کی شکایت نمبر DC-32-C/2023 کے تحت سنا گیا۔ شکایت کنندہ نے موقف اختیار کیا کہ ان کی اہلیہ نو ماہ تک زچگی سے متعلق علاج اور چیک اپ کے لیے ڈاکٹر سیتا رام کشن کے پاس زیرِ علاج رہیں، جہاں انہیں مسلسل یقین دہانی کرائی جاتی رہی کہ کیس نارمل ہے۔

محمد آصف کے مطابق آخری مرحلے پر اچانک آپریشن کا فیصلہ کیا گیا، جس کے بعد مریضہ کی حالت بگڑ گئی۔ آپریشن کے بعد مریضہ کو بغیر تحریری ریفر لیٹر کے حیدرآباد کے اسری اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں علاج ممکن نہ ہونے کے باعث کچھ ہی دیر بعد وہ انتقال کر گئیں۔

سماعت کے دوران ڈاکٹر سیتا رام کشن نے مؤقف اختیار کیا کہ مریضہ کو بروقت اعلیٰ مرکز منتقل کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا اور ایمبولینس کی سہولت بھی فراہم کی گئی تاکہ کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔

پی ایم ڈی سی بورڈ نے ڈاکٹر سیتا رام کشن سے ان کی پیشہ ورانہ اہلیت کے حوالے سے سوال کیا، جس پر انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس گائناکالوجسٹ کی باقاعدہ ڈگری موجود نہیں بلکہ انہوں نے سال 2010 میں اسری اسپتال حیدرآباد سے ایک ٹریننگ کورس کیا تھا۔ مزید سوال پر انہوں نے بتایا کہ وہ اب بھی روزانہ ایک یا دو زچگی کے کیسز انجام دیتی رہی ہیں۔

سماعت کے دوران اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ایک ماں اور نومولود کی ہلاکت کے باوجود زچگی کے کیسز کا تسلسل مریضوں کی سلامتی کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔

پی ایم ڈی سی نے فریقین کے بیانات اور دستیاب ریکارڈ کو محفوظ کرتے ہوئے کارروائی مکمل کی، جبکہ کیس میں حتمی فیصلہ اور ممکنہ تادیبی اقدامات کا اعلان آئندہ دنوں میں متوقع ہے۔

طبی حلقوں کے مطابق یہ کیس عوام کے لیے ایک اہم تنبیہ ہے کہ زچگی جیسے حساس معاملات میں معالج کی باقاعدہ ڈگری، رجسٹریشن اور اسپیشلائزیشن کی تصدیق نہایت ضروری ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں