کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)ڈیجیٹل نظام کے ذریعے شفافیت اور اعتماد کو فروغ دیا جا سکتا ہے اورنادرانے اس بات کو ثابت کیا کہ ڈیجیٹل تبدیلی نہ صرف ممکن ہے بلکہ بہتر گورننس اور موثر انتظام کے لئے ناگزیر بھی ہے۔وائس چانسلر جامعہ کراچی پروفیسرڈاکٹر خالد محمودعراقی
کسی عورت کو ڈیجیٹل طور پر بااختیار بنانا، درحقیقت ایک نسل کو پائیدار طور پر بااختیار بنانا ہے۔وائس چانسلر وفاقی اُردو یونیورسٹی پروفیسرڈاکٹر ضابطہ خان شنواری
عالمی سطح پر 85فیصد خواتین اور لڑکیاں آن لائن ہراسانی کا شکار ہوتی ہیں، جو ایک سنگین چیلنج ہے۔سینئر لیکچرر تیسائیڈ یونیورسٹی، میڈلسبرگ، برطانیہ ڈاکٹر سبین بھٹی
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر خالد محمودعراقی نے کہا کہ کوئی اسے پسند کرے یا نہ کرے، ٹیکنالوجی اور معلومات کے تیز بہاؤ کے باعث تبدیلی ایک ناگزیر حقیقت بن چکی ہے۔انتظامی امور میں ڈیجیٹل تبدیلی (Digital Transformation) ہی آگے بڑھنے کا واحد موثر راستہ ہے اور یہ جدید مینجمنٹ کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے، ڈیجیٹل نظام نہ صرف اداروں کی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے بلکہ انہیں مستقبل کی خوشحالی کی جانب گامزن کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے جامعہ کراچی کے فیکلٹی آف مینجمنٹ اینڈ ایڈمنسٹریٹو سائنسز کے زیرِ اہتمام کراچی یونیورسٹی بزنس اسکول کی سماعت گاہ میں منعقدہ دوسری تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان “نظم و نسق کے لیے ڈیجیٹل تبدیلی، خواتین کو بااختیار بنانا، ڈیجیٹل قیادت اور پائیدار ترقی” کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ڈاکٹر خالد عراقی نے مزیدکہاکہ انتظامی تناظر میں سب سے بڑے چیلنجز میں جوابدہی (Accountability)، شفافیت (Transparency) اور موثر ترسیلی نظام (Delivery Mechanism) شامل ہیں۔ انہوں نےپاکستان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان اور نادرا جیسے ادارے اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے شفافیت اور اعتماد کو فروغ دیا جا سکتا ہے اورنادرانے اس بات کو ثابت کیا کہ ڈیجیٹل تبدیلی نہ صرف ممکن ہے بلکہ بہتر گورننس اور موثر انتظام کے لئے ناگزیر بھی ہے۔
ڈاکٹر خالد نے کہا ہے کہ نادرا نے گزشتہ 10 سے 15 برسوں کے دوران جدید ٹیکنالوجی کو موثر طور پر اپناتے ہوئے خود کو ڈیجیٹل بنایا ہے، جس کے مثبت اثرات اس کی مجموعی کارکردگی، انتظامی استعداد اور خدمات کی فراہمی کے نظام میں واضح طور پر نظر آتے ہیں۔
ڈاکٹر خالد نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ موقف اختیار کیا جا سکتا ہے کہ وسائل کی کمی ایک بڑی رکاوٹ ہے، ڈاکٹر خالد عراقی نے اس ضمن میں بھارتی الیکشن کمیشن کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو بھی وسائل کی محدودیت کا سامنا ہے، اس کے باوجود وہاں کا انتخابی نظام نہایت شفاف، موثر اور منظم ہے، جس نے بھارتی جمہوری عمل کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ انسانی وسائل کسی بھی ادارے کا ایک اہم جزو ہوتے ہیں، تاہم ٹیکنالوجی، ڈیٹا، ڈیٹا اینالیسس اور جدید انتظامی تقاضے ادارہ جاتی کارکردگی کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
وفاقی اُردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر ضابطہ خان شنواری نے کہا کہ دنیا میں قابل اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی کمی نہیں، لیکن اصل ضرورت اخلاقیات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت کے خلاف جرائم کرنے والے افراد عموماً جاہل یا غیر تعلیم یافتہ نہیں ہوتے، بلکہ اکثر کے پاس اعلیٰ تعلیمی اسناد اور پی ایچ ڈی ڈگریاں ہوتی ہیں۔ اس لئے مسئلے کا حل محض جدید علوم یا ٹیکنالوجی میں نہیں، بلکہ اچھے انسان تیار کرنے میں ہے۔
انہوں نےاس بات پر زور دیا کہ ہمارے پاس اچھے ڈاکٹرز، AI ماہرین اور انجینئرز پہلے ہی موجود ہیں، مگر ہمیں ایسے انسانوں کی اشد ضرورت ہے جو مصنوعی نہیں بلکہ قدرتی ذہانت، اخلاقیات اور انسان دوستی سے آراستہ ہوں۔
ڈاکٹر ضابطہ خان شینواری نے مزیدکہا کہ آج کے دور میں ڈیٹا اور معلومات کی فراوانی اس قدر تیز ہے کہ اساتذہ اور طلبہ دونوں کو موثر طریقۂ تدریس اور سیکھنے کے نئے انداز اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اب صرف دیدہ زیب سلائیڈز پر انحصار کرنے کے بجائے باہمی اور انٹرایکٹو تدریس کو فروغ دینا ضروری ہے، جس میں سوال و جواب، مکالمہ، اور طلبہ کی فعال شمولیت شامل ہو۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل معیشت میں خواتین اور مردوں کے درمیان صنفی فرق کے اعداد و شمار خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے خوش آئند خبر یہ ہے کہ پاکستان نے جنوبی ایشیا میں نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں خواتین اور مردوں کے درمیان صنفی فرق کو کم کرنے میں قیادت حاصل کی ہے۔
سال 2023 میں یہ صنفی فرق 38 فیصد تھا، تاہم اب یہ کم ہو کر 25 فیصد رہ گیا ہے۔ یہ پیش رفت اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان میں خواتین ڈیجیٹل معیشت میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں، جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں ایک مثبت اور حوصلہ افزا رجحان ہے۔
ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کو ایک موثر ذریعہ بنایا جا سکے۔ ہماری اخلاقیات اور وژن یہ ہونا چاہیے کہ ایک ایسا پاکستان تشکیل دیا جائے جہاں ٹیکنالوجی قوم کی ہر بیٹی کو باوقار قیادت کے قابل بنائے۔ انہیں عزت دیں، ان پر اعتماد کریں،قین کیجیے، وہ بہترین کارکردگی دکھائیں گی۔کسی عورت کو ڈیجیٹل طور پر بااختیار بنانا، درحقیقت ایک نسل کو پائیدار طور پر بااختیار بنانا ہے۔”
انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے پروفیسرڈاکٹر شکیل کھوجہ نے ڈیجیٹل حکومت اور ڈیجیٹل تبدیلی کے عنوان پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 70 ہزار آئی ٹی گریجویٹس تیار ہو رہے ہیں، تاہم ان میں سے صرف 10 فیصد کو ہی ملازمت کے مواقع میسر آ پاتے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران ہر سال تقریباً 70 ہزار آئی ٹی گریجویٹس ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک منتقل ہو چکے ہیں، جو کہ ایک نہایت تشویشناک رجحان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ ملک چھوڑنے والوں میں صرف نئے فارغ التحصیل نوجوان ہی شامل نہیں بلکہ تجربہ کار اور بہترین آئی ٹی ماہرین بھی اس فہرست کا حصہ ہیں۔ یہ صورتحال قومی معیشت اور ٹیکنالوجی کے مستقبل کے لیے لمحۂ فکریہ ہے اور فوری توجہ کی متقاضی ہے۔
تعلیمی نظام پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شکیل کھوجہ نے کہا کہ یہ سمجھنا ناگزیر ہے کہ طلبہ اپنی صلاحیت اور رفتار کے مطابق سیکھتے ہیں، اسی لیے جانچ پڑتال کے متنوع طریقے، جدید تدریسی حکمتِ عملیاں اور دیگر متعلقہ پہلو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی نظام میں یہ تبدیلی ہمیں ایک نئے دائرہ کار کی جانب لے جا رہی ہے، جہاں طلبہ کو محض سیکھنے والا نہیں بلکہ تعلیمی عمل کا باقاعدہ شراکت دار تصور کیا جائے گا، جو ایک مثبت اور دیرپا تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
ایکوینوکس انڈسٹریل سلوشنز کی چیف ایگزیکٹو آفیسر، انجینئر سارہ خان نے ڈیجیٹلائزیشن پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہر منصوبہ ڈیٹا پر مبنی ہوتا ہے اور یہ ڈیٹا سائٹ پر موجود عملی حالات اور کارکردگی سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اصل چیلنج ڈیٹا کو یکجا کرنا، اس میں تسلسل برقرار رکھنا اور اسے قابلِ استعمال ڈیجیٹل ان پٹ میں تبدیل کرنا ہے۔
ملائشین یونیورسٹی سے پروفیسرڈاکٹر عرشیان نے اپنا تحقیقی مقالہ بعنوان “نصابِ تعلیم سے آگے پائیداری: روزمرہ کاروباری فیصلوں میں طویل المدتی سوچ “،جبکہ گرین سوشل مارکیٹنگ کی ڈپٹی مینجر ڈاکٹر ثنادرویش نے اپنا تحقیقی مقالہ بعنوان “خواتین بطور محرکِ تبدیلی: ڈیجیٹل جدت اور پائیدار انتظام کے ذریعے سماجی اقدامات کا فروغ” پیش کیا۔
تیسائیڈ یونیورسٹی، میڈلسبرگ، برطانیہ کی سینئر لیکچرر ڈاکٹر سبین بھٹی نےاپنا تحقیقی مقالہ بعنوان”ڈیجیٹل صنفی تقسیم کوکم کرنا” پیش کرتے ہوئے کہا کہ صنفی نقطہ نظر سے ڈیجیٹل شمولیت ایک انتہائی اہم موضوع ہے۔ یہ صرف اس لیے اہم نہیں کہ یہ ایک اچھی روایت ہے یا ہم سب کو اس پر عمل کرنا چاہیے، بلکہ اس کا سماجی اور اقتصادی پہلوؤں پر گہرا اثر ہے، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں۔
انہوں نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اے آئی نے تعلیم، طب اور دیگر شعبوں سمیت پوری معیشت میں انقلاب برپا کر دیا ہے اور اس کے استعمال سے خواتین کی ترقی اور معاشرتی شمولیت میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ عالمی سطح پر 85فیصد خواتین اور لڑکیاں آن لائن ہراسانی کا شکار ہوتی ہیں، جو ایک سنگین چیلنج ہے اور اس کے لیے مضبوط قانونی فریم ورک کی ضرورت ہے۔
ڈین فیکلٹی آف مینجمنٹ اینڈ ایڈمنسٹریٹو سائنسز جامعہ کراچی پروفیسرڈاکٹر زعیمہ اسرار محی الدین اور شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن جامعہ کراچی کے ایسوسی ایٹ پروفیسرڈاکٹر مصطفیٰ حید رنے کہا کہ رواں سال ہم نے کانفرنس کو اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی ہدف نمبر 5 (SDG 5) یعنی خواتین کو بااختیار بنانے کے موضوع کے ساتھ آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سال کی کانفرنس کا مرکزی مقصد خواتین کا بااختیار ہونا، ڈیجیٹل قیادت، اور پائیدار ترقی ہے، جو کہ وہ بنیادی اہداف ہیں جن کے حصول کے لیے پوری دنیا کوشاں ہے۔اسی دوران ایک متوازی سیشن کابھی انعقاد کیا گیا جس میں اکیڈمیا اور مختلف صنعتوں سے تعلق رکھنے والی تقریباً 20 ممتاز خواتین رہنماؤں نے شرکت کی۔ اس سیشن میں پاکستان کے تناظر میں خواتین کو درپیش مساوات اور صنفی مسائل پر جامع گفتگو کی گئی۔
قبل ازیں کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے قبل ایک خصوصی سائیڈ سیشن کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت سینیٹرخالد ہ اطیب نے کی۔ سیشن میں ویمن امپاورمنٹ اور ویمن ایز چینج میکر کے موضوعات پر تفصیلی گفت و شنید ہوئی، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین رہنماؤں نے اپنے خیالات اور تجربات کا اظہار کیا۔
اس موقع پر ریسرچ بیٹھک کے عنوان سے ایک تربیتی ورکشاپ بھی منعقد کی گئی، جس میں 70 سے زائد مندوبین نے شرکت کی۔ ورکشاپ کے دوران شرکاء نے اپنے تحقیقی تجربات شیئر کیے جبکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی نئی Weighted جنرل پالیسی پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ مزید برآں، ریسرچ جرنلز کی اشاعت میں درپیش چیلنجز، جعلی تحقیقی جرنلز کی نشاندہی اور امپیکٹ فیکٹر رکھنے والے ریسرچ جرنلز میں اشاعت کے طریقہ کار سے متعلق اہم معلومات بھی فراہم کی گئیں۔


