کینال معاملے پر احتجاج، اندرون سندھ کے مختلف مقامات پر 3 ہزار آئل ٹینکرز پھنس گئے

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) کینال معاملے پر احتجاج، اندرون سندھ کے مختلف مقامات پر 3 ہزار آئل ٹینکرز پھنس گئے، گزشتہ چھ روزہ سے ڈرائیورز اور کلینرز بے یار و مددگار بھوکے پیاسے ہائی ویز کھڑے ہیں ، حکومت نے مظاہرین سے مزاکرات نہیں کئے تو 48 گھنٹوں کے الٹی میٹم کے بعد ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند کرینگے ۔چیئرمین آل پاکستان آئل ٹینکرز اونر ایسوسی ایشن اقبال جہانگیری ۔تفصیلات کے مطابق دریائے سندھ پر متنازع کینالز کے معاملے پر جاری دھرنوں اور سڑکوں کی بندش کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل شدید متاثر ہو گئی ہے، اندرون سندھ اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی پیٹرولیم بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے، آل پاکستان آئل اونر ٹینکرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین اقبال جہانگیری کا کہنا ہے کہ کاٹھور اور اندرون سندھ کے علاقوں میں احتجاج اور روڈ کی بندش کے باعث 3000 سے زائد آئل ٹینکرز پھنسے ہوئے ہیں ، انہوں نے بتایا کہ مذکورہ گاڑیوں کے ڈرائیورز اور کلینرز گزشتہ چھ دنوں سے کھلی آسمان تلے بے یار و مددگار نا صرف کھڑے ہیں بلکے بھوک اور پیاسے ہونے کی وجہ حالت غیر ہوتی جا رہی ہے ، احتجاج کے باعث پریشانی سے دو چار ڈرائیور ہمیں دن میں کئی کئی بار موبائل فونز کے زریعے کال کرکے درپیش مسائل سے آگاہ کر رہے ہیں ۔ ڈرائیوروں کا بتا ناہے کہ ہائی ویز کنارے قائم ھوٹل مالکان لوڈ گاڑیاں کھڑی کرنے نہیں دے رہے ، چیئرمین ٹینکرز اونر ایسوسی ایشن اقبال جہانگیری کا کہنا تھا کہ ہمیں اندیشہ یہ ہے کہ خدانخواستہ کسی شرپسند عناصر نے آگر ایک آئل ٹینکرو کو بھی نذر آتش کردیا تو لائن میں کھڑے ہزاروں ایندھن سے بھرے آئل ٹینکروں نے آگ پکڑ لی تو ناقابل یقین تلافی نقصان اٹھانا پڑ جائے گا اور مذکورہ سانحہ 2007 میں محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کی بھی تاریخ رقم کر جائیگا ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کشمور ، گھوٹکی ، راجن پور کے مقامات پر کھڑے آئل ٹینکروں ڈرائیوروں کو موٹر وے پولیس والے گاڑیوں میں سونے نہیں دیتی کیونکہ مذکورہ مقامات پر کچھے کے ڈاکوں کی خوف کی وجہ سے ایسا کیا جا رہا ہے ۔جبکہ اس ہی طرح خیرپور کے قریب ببرلو بائی پاس پر وکلا کے دھرنے کے باعث ہزاروں گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں، جن میں ٹرک، مال بردار گاڑیاں اور مویشیوں سے لدی ٹرانسپورٹ شامل ہے۔ کروڑوں روپے مالیت کا سامان خراب ہونے کے خدشے کے پیش نظر کئی گاڑیاں واپس لوٹ گئیں۔سندھ کے داخلی راستے پر اجناس اور سبزیوں سے لدے کئی کنٹینرز پھنسنے سے برآمدات کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔برآمدکنندگان کے مطابق ایکسپورٹرز کو 25 لاکھ ڈالرز کے نقصان کا اندیشہ ہے۔ چیئرمین آئل ٹینکرز اونر ایسوسی ایشن اقبال جہانگیری نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر ،صدر پاکستان آصف علی زرداری ، وزیراعظم شہباز شریف، گورنر سندھ کامران ٹیسوری اور وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ سے اپیل کی ہے کہ کینال معاملے پر احتجاجی مظاہرین سے مزاکرات کئے جائیں اور ہائی ویز پر ٹریفک بحال کی جائے بصورت دیگر آل پاکستان آئل ٹینکرز آنرز ایسوسی ایشن کی جانب سے 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا جاتاہے اگر موٹر ویز سمیت دیگر ہائی ویز ٹریفک کی روانی بحال نہیں ہوئی تو مکمل طور پر سپلائی بند کر دی جائیگی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں