کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) سندھ ہائی کورٹ میں کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز میں ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالت نے تحریک انصاف کی درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل طلب کرلیے
قائم مقام چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کی وکیل سے سوال کیا کہ سیاسی جماعت کے طور پر آپ کیسے متاثر ہیں؟ بتائیں کس طرح سیاسی جماعت ترمیم کو چیلنج کرسکتی ہے؟
ترمیم کے بعد این او سیز کا اجرا شروع کردیا گیا ہے، وکیل جماعت اسلامی
رہائشی پلاٹ کو این او سی کے بعد کمرشل استمال کیا جاسکتا ہے، محمد واوڈا ایڈووکیٹ
عدالت کا وقت بچانے کے لئے ثالثی کا پلیٹ فارم استعمال کیا جاسکتا ہے، وکیل ایس بی سی اے
ترمیم میں جو غلطیاں ہیں انکی نشاندہی کرکے ٹھیک کیا جاسکتا ہے، وکیل ایس بی سی اے
یہ ثالثی کا آپشن ترمیم سے پہلے استعمال کیوں نہیں کیا گیا؟ عدالت
اگر ترمیم واپس لیکر ثالثی کرنا چاہیں تو اعتراض نہیں، وکیل پائلپ
کے ایم سی، کے ڈی اے اور ایس بی سی اے کے وکلا کے جواب کے لئے مہلت کی استدعا
عدالت کا فریقین کو آئندہ سماعت تک جواب جمع کروانے اور درخواست گزاروں کو ایڈوانس کاپی فراہم کرنے کی ہدایت
عدالت نے درخواستوں کی سماعت 7 مئی تک ملتوی کردی
عدالت نے نئی دائر درخواستوں میں فریقین کو نوٹس جاری کردییے
کے بی ٹی آر میں ترمیم کے خلاف تحریک انصاف، پائلپ اور نجی ہاونسگ سوسائٹیز نے نئی درخواستیں دائر کی ہیں


