کوئٹہ (ایچ آراین ڈبلیو) بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کا ایک سینئر ایجنٹ، اشوک چتر ویدی، کوڈ نام ’’آریہ-13B‘‘، ایران سے آپریٹ کر رہا تھا جب وہ پاک-ایران سرحد کے قریب پاکستانی کاؤنٹر انٹیلیجنس کے ہتھے چڑھ گیا۔ ’’را‘‘ میں اُس کا تعارف ایک ’’فیلڈ کوآرڈی نیٹر‘‘ کے طور پر کیا جاتا تھا، مگر اصل میں وہ ’’ویسٹ ایشیا ڈیسک‘‘ پر تعینات ایک سینئر ایسٹ ہینڈلر تھا۔
تہران میں اُس نے ’’کرافٹس آف سلک روٹ‘‘ کے نام سے ایک درآمدی کمپنی قائم کر رکھی تھی؛ ظاہر میں یہ کمپنی بلوچ زیورات، ایرانی قالین اور زعفران کی تجارت کرتی تھی، مگر درپردہ یہ دفتر دہشت گرد گروہوں کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کا مرکز تھا۔ یہی جگہ بی ایل اے کے چھاپہ ماروں کو SAT فونز، نائٹ ویژن گوگلز اور M-16 A4 رائفلز کی ترسیل کا خفیہ گودام بنی ہوئی تھی۔
سال 2023 کے اواخر میں نئی دہلی کے ’’ڈیجیٹل وارفیئر سیل‘‘ سے اشوک کو ایک نیا مشن سونپا گیا: بلوچ ڈیجیٹل اسپیس میں اینٹی پاکستان بیانیے کا سیلاب لانا۔
500 سے زائد جعلی ’’ایکس‘‘، فیس بک اور ٹیلیگرام اکاؤنٹس بنائے گئے؛ ہر اکاؤنٹ ایک الگ بلوچ نام، ایک مختلف المیہ، لیکن ایک ہی مقصد: پاک


