کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) شہر میں ڈاکو راج عروج پر، غیر ملکی مہمان اور اوورسیز پاکستانی ڈکیتوں کا نشانہ بننے لگے۔ جامعہ بنوریہ عالمیہ کے معاونین میں شامل مہمانوں کو ایئرپورٹ سے ناظم آباد اور گلبہار کے درمیان راستے میں لوٹ لیا گیا۔ گلبہار میں ترکیہ سے آئے محمد عبید اور ان کی فیملی سے 12 لاکھ نقدی، قیمتی سامان اور دستاویزات چھین لی گئیں، جبکہ ناظم آباد نمبر 1 میں مانچسٹر (یو کے) سے آئے اوورسیز پاکستانی حاجی شریف پرویز اور ان کی اہلیہ کو مسلح نقاب پوش ڈاکوؤں نے اسلحے کے زور پر لوٹ لیا۔ دونوں وارداتوں میں مجموعی طور پر 16 لاکھ روپے سے زائد نقدی، موبائل فونز، قیمتی اشیاء اور اہم سفری و شناختی دستاویزات لوٹی گئیں۔ متاثرہ خاندانوں نے متعلقہ تھانوں میں ایف آئی آرز درج کروائیں لیکن تاحال ملزمان گرفتار نہ ہو سکے۔تفصیلات کے مطابق 11 اپریل 2025 کو حاجی شریف پرویز اپنی اہلیہ کے ہمراہ مانچسٹر سے کراچی پہنچے، رات 3:20 پر ناظم آباد نمبر 1 پر دو نقاب پوش ڈاکوؤں نے اسلحے کے زور پر 4 لاکھ 75 ہزار روپے نقد، دو موبائل فون، ایک آئی پیڈ اور ایک سوٹ کیس لوٹ لیا۔
13 اپریل کو ترکیہ سے آئے محمد عبید بھائی اپنی فیملی کے ہمراہ گلبہار پہنچے، جہاں پولیس وردی میں ملبوس تین کار سوار ڈاکوؤں نے پولیس سرچنگ کے بہانے گاڑی رکوائی اور تقریباً 12 لاکھ روپے مالیت کی نقدی، 11 پاسپورٹس، امارات آئی ڈی، ڈرائیونگ لائسنس اور شناختی کارڈز چھین لیے۔ ان کی بیٹی واقعے کے بعد شدید ذہنی دباؤ میں ہے۔
واضح رہے کہ جامعہ بنوریہ عالمیہ ایک بین الاقوامی دینی درسگاہ ہے جہاں دنیا بھر سے طلبہ و مہمان آتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں اوورسیز پاکستانیوں اور غیر ملکی مہمانوں کو کراچی میں ایئرپورٹ سے جامعہ تک مسلسل ڈکیتیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ گزشتہ سال کرغزستان کے طالب علم کو سائٹ ایریا میں پولیس کی وردی میں ملبوس ڈکیتوں نے زخمی کیا، اور امریکہ سے آئے احمد کے والدین سے شریف آباد میں ایک کروڑ 10 لاکھ روپے مالیت کا سامان چھینا گیا۔
متاثرہ خاندانوں نے اعلی حکام سے فوری طور پر ڈکیتوں کی گرفتاری کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ ہے کہ ان سے چھینی گئی نقدی سامان اور دستاویزات انہیں دلوائی جائیں اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ ملک کی ساکھ اور معزز مہمانوں کا تحفظ ممکن ہو سکے۔


