جب کرپشن قومی برانڈ بن جائے — ایک سچ جسے اب جھٹلایا نہیں جاسکتا

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (IMF) کی تازہ رپورٹ نے پاکستانی حکومت کے چہرے سے آخری نقاب بھی اتار دیا ہے۔ 5300 ارب روپے کے کرپشن اسکینڈلز محض اعداد نہیں—یہ اس ریاست کی روح پر لگے زخموں کی گہری خراش ہیں۔ IMF کی تشخیص بتاتی ہے کہ پاکستان میں کرپشن اب جرم نہیں رہی، ایک منافع بخش کاروبار اور قومی شناخت بن چکی ہے۔

اس کے باوجود IMF نے جتایا کہ اگر پاکستان کرپشن پر ہاتھ ڈال دے تو آئندہ پانچ سالوں میں GDP میں 5 سے 6.5 فیصد اضافی ترقی ممکن ہے۔ یعنی کرپشن صرف اخلاقی زوال نہیں—یہ اقتصادی خودکشی ہے۔
طاقتور طبقات (elite capture) نے پالیسی سازی، پروکیورمنٹ، سرکاری اداروں، ٹیکس نظام—ہر نازک جگہ میں مضبوط پنجے گاڑ رکھے ہیں۔
جنوری 2023 سے دسمبر 2024 تک نیب کے ذریعے 5.31 ٹریلین روپے کی ریکوری ہوئی—مگر IMF کہتا ہے: یہ تو صرف برف کی چٹان کا اوپری کنارہ ہے۔ کیونکہ کمزور عدالتیں، سیاسی مداخلت، اور غیر شفاف بجٹ نے کرپشن کو ایک محفوظ پناہ گاہ بنا دیا ہے۔

IMF رپورٹ نے شوگر مافیا کا ایسا پردہ چاک کیا جس نے پوری قوم کو حیرت میں ڈال دیا۔ یعنی چینی سیکٹر — وہ ناسور جو کھل کر سامنے آگیا

شوگر انڈسٹری اشرافیہ کی گرفت کا کلاسک نمونہ قرار۔ انفرادی مفادات کے لیے protective tariffs، سبسڈیز اور ایکسپورٹ مراعات پالیسیوں میں داخل کی گئیں۔ 2018–19 کی چینی برآمدات سیاسی اثر و رسوخ کا نتیجہ — جس نے مہنگائی، قلت اور عوامی اذیت کو جنم دیا۔ کمزور نگرانی اور کمزور نفاذ نے اس سیکٹر کو بدعنوانی کی سلطنت بنا دیا۔

یہ صرف چینی نہیں — یہ پورے سسٹم کی بیماری ہے۔ آئی ایم ایف بتاتا ہے کہ پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اکثر تماشائی یا شریک جرم بن چکے ہیں۔

جب جرم سینہ تان کر گھومے، یعنی تصور کریں ایک ایسا ملک جہاں عہدے قابلیت سے نہیں، مالیاتی واردات کی مہارت سے ملیں۔ جہاں جتنا بڑا گھپلا، اتنی بڑی کرسی۔ جہاں قانون کی حکمرانی کتابوں میں زندہ ہو، مگر بازاروں میں نیلام ہوتی ہو۔

یہی تصویر IMF نے دنیا کے سامنے رکھی ہے — اور ہم اب بھی خاموش ہیں۔ حیران کن تضاد یہ ہے کہ کرپشن بڑھے، کیس بند ہوجائے- واپڈا کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین پر 212 ارب روپے کی کرپشن کا الزام لگا۔ تحقیقات ہوئیں۔ شور مچا۔ پھر نامعلوم وجوہات پر فائل بند — جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔

یہ وہ لمحہ ہے جہاں قوم سمجھ جاتی ہے: ہم کرپشن کے خلاف نہیں لڑ رہے… ہم اس کے محافظ بن چکے ہیں۔ اس رپورٹ میں IMF نے واضح پیغام دیا ہے کہ — ابھی بھی بچا سکتے ہو

رپورٹ نے ایک سخت مگر امید بھرا راستہ دکھایا ہے، . 15 نکاتی اصلاحاتی ایجنڈا — شفاف پروکیورمنٹ، غیر جانبدار نگرانی، پارلیمانی کنٹرول۔ خصوصی مراعات، سبسڈیز اور ٹیرف کا مکمل ازسرِنو جائزہ، احتساب کے اداروں کی حقیقی آزادی، بجٹ اور سرکاری خرچ کی فوری، مکمل عوامی شفافیت

یہ سفارشات محض مشورے نہیں—ریاست کی بقا کے نسخے ہیں۔ حرفِ آخر کے طور پر یہی کہا جا سکتا ہے اگر آج نہیں تو کبھی نہیں، پاکستان ایک موڑ پر کھڑا ہے۔ یا تو ہم اپنے نظام سے وہ ہاتھ کھینچ لیں جو اسے اندر سے چاٹ رہے ہیں، یا پھر IMF بھی، قانون بھی، ریاست بھی—سب بے بس ہو جائیں گے۔

کیونکہ جب کرپشن فیشن بن جائے، جب لوٹ مار معمول بن جائے، اور جب حکومتیں چوروں کے کیس بند کرنے لگیں—پھر دنیا کی کوئی طاقت اس ملک کو تباہی سے نہیں روک سکتی۔ مگر امید تبھی زندہ رہتی ہے جب قوم فیصلہ کرے کہ “ہم سدھریں گے — ورنہ تاریخ ہمیں ہمیشہ کے لیے مٹا دے گی۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں