کراچی کے دل میں واقع گل پلازہ کی آگ کوئی عام حادثہ نہیں تھی، یہ ایک سسٹم فیلئر تھا، ایسا فیلئر جو برسوں کی کرپشن، غفلت اور ریاستی چشم پوشی کا نتیجہ ہے۔
فائر بریگیڈ کی اعلیٰ حکام کو دی گئی بریفنگ نے وہ حقائق بے نقاب کر دیے جو شہری برسوں سے بھگت رہے ہیں مگر سننے والا کوئی نہیں۔
گل پلازہ کم و بیش پونے دو ایکڑ پر پھیلا ہوا بازار تھا، جہاں 1500 سے زائد دکانیں موجود تھیں اور آگ بیک وقت ہر طرف لگی۔ نہ کوئی فائر الارم، نہ آگ پر ابتدائی قابو پانے کا نظام، نہ ایمرجنسی راستے۔
فائر چیف محمد ہمایوں کے مطابق > “اپنی 37 سالہ سروس میں ایسی آگ نہیں دیکھی جو بیک وقت ہر جگہ لگی ہو”
اس آگ کو بجھاتے ہوئے ایک فائر فائٹر نے جان کا نذرانہ دیا، مگر ذمہ داروں کے چہروں پر کوئی شرمندگی نہیں۔
ساڑھے تین کروڑ سے زائد آبادی والے کراچی میں فائر ٹینڈر نہ ہونے کے برابر ہیں۔ دنیا کے کسی مہذب شہر میں یہ صورتحال ناقابلِ قبول ہوتی، مگر یہاں انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں۔
کے ایم سی کی فائر سیفٹی آڈٹ رپورٹ بتاتی ہے کہ آئی آئی چندریگر روڈ، شارع فیصل اور شاہراہ قائدین جیسی اہم شاہراہوں پر موجود 266 عمارتوں میں سے صرف 6 عمارتوں میں فائر سیفٹی سہولیات موجود ہیں۔
200 سے زائد عمارتوں میں آگ بجھانے کے آلات نہیں، 62 فیصد عمارتوں میں ایمرجنسی ایگزٹ موجود نہیں، 70 فیصد عمارتوں میں غیر معیاری الیکٹرک وائرنگ ہے، شارٹ سرکٹ ہر عمارت میں ایک چھپا ہوا بم ہے
سوال یہ ہے کہ اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟
قانون کے مطابق کسی بھی کمرشل یا رہائشی عمارت میں فائر سیکیورٹی اور ایمرجنسی دروازے نصب کیے بغیر کمپلیشن سرٹیفکیٹ جاری نہیں ہو سکتا، یہ ذمہ داری سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) پر عائد ہوتی ہے۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ ایس بی سی اے نے کراچی میں رہائشی پلاٹوں پر کمرشل عمارتیں بنانے کا بازار گرم کر رکھا ہے۔
گلیاں، محلے اور گھر رشوت کے زور پر پلازوں اور مارکیٹوں میں تبدیل کر دیے گئے۔
اگر سندھ انجینئرنگ کونسل سے غیر جانبدار سروے کروا لیا جائے تو یہ ثابت ہو جائے گا کہ کراچی میں موجود رہائشی اور کمرشل عمارتوں کی تقریباً 100 فیصد کمپلیشن یا تو غیرقانونی ہے، یا دی گئی ریگولرائزیشن کے بالکل برعکس ہے۔
کیونکہ یہی غیرقانونی کام، ایس بی سی اے کا **اصل دھندہ** ہے۔ ایس بی سی اے میں پیسے دو، بغیر فائر سیکیورٹی، بغیر ایمرجنسی ایگزٹ عمارت قانونی قرار پا جاتی ہے۔ پھر نتیجہ گل پلازہ جیسا سانحہ ہی نکلتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ صرف 2025 میں کراچی میں آگ لگنے کے 2500 سے زائد واقعات پیش آئے، مگر سندھ حکومت اصلاحات کے بجائے کرپشن کرنے کی حکمرانی کر رہی ہے۔ کراچی کو ہر سرکاری ادارے نے لوٹ مار کا کوٹھا سمجھ رکھا ہے۔
پیپلز پارٹی نے گزشتہ 17 سالوں میں وفاق سے ساڑھے تین ہزار ارب روپے وصول کیے، مگر آج کراچی کھنڈر،
ملبے کا ڈھیراور تباہی کی تصویر بن چکا ہے۔
یہ صرف وہ رقم ہے جو کاغذوں میں آئی، اس کے علاوہ روزانہ اربوں روپے سرکاری اداروں سے کرپشن کے ذریعے نکال کراسی کرپٹ مافیا میں بندر بانٹ کیے جاتے ہیں، اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔
مہذب ممالک میں کسی ایک سرکاری غفلت پر حکومتیں مستعفی ہو جاتی ہیں۔ مگر کراچی میں درجنوں جانیں چلی جائیں، بڑا سے بڑا سانحہ ہو جائے، یہ بے حس اور بے شرم حکمران مزید ڈھٹائی سے اپنی کرسیوں پر براجمان رہتے ہیں۔
کیونکہ انہیں یقین ہے کہ وہ جو بھی جرم کریں گے، بعد میں قانون میں ترمیم کرا کے اپنے جرائم کو قانونی بنا لیں گے یہی وہ نظام ہے جس نے کراچی کوبے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج پاکستانی اپنی خاموشی، غلط انتخاب اور بے حسی کا کفارہ پورے پاکستان میں اور خاص طور پر کراچی میں جان، مال اور عزت کی صورت ادا کر رہے ہیں۔
گل پلازہ کی آگ بجھ چکی ہے، مگر کراچی میں کرپشن کی آگ آج بھی پوری شدت سے لگی ہوئی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ
آگ کیسے لگی؟ سوال یہ ہے کہ اگلی آگ کہاں اور کس نام سے لگے گی؟


