140

پاکستان کا آئین و قانون—انا للہ و انا الیہ راجعون

اگر پاکستان کی آئینی تاریخ میں کسی ترمیم کو ریاست، آئین اور جمہوریت پر براہِ راست حملہ کہا جاسکتا ہے تو وہ 27ویں آئینی ترمیم ہے۔ یہ ترمیم محض چند شقوں کی تبدیلی نہیں بلکہ آئین کی روح پر ایک ایسا وار ہے جو ریاست کی طاقت کے توازن، عدلیہ کی آزادی، وفاق کی سالمیت اور جمہوری مکینزم کے بنیادی ڈھانچے کو ہلا دیتا ہے۔ اسے عوامی مفاد، قانون کی اصلاح یا قومی ضروریات کا اقدام کہنا تاریخ کے ساتھ دھوکا ہوگا۔

اس ترمیم کا عوام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ نہ روزگار کے لیے ہے، نہ انصاف کی فراہمی کے لیے، نہ عدالتی اصلاحات کے لیے، نہ صوبائی خودمختاری کے تحفظ کے لیے۔ یہ ترمیم صرف اور صرف طاقتور طبقات کے مفادات کے لیے تخلیق کی گئی، جن کے اردگرد ریاستی ڈھانچہ گھومتا ہے۔ ایک نیا عسکری منصب، “چیف آف ڈیفنس فورسز”، اس انداز میں تخلیق کیا گیا ہے کہ اس کے اختیارات پاکستان کے کسی بھی سابق عسکری سربراہ سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ یہ اختیارات ایک ایسی بالادست قوت کو جنم دیتے ہیں جو مستقبل میں تمام ریاستی اداروں پر سایہ بن کر بیٹھ سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ جمہوریت ہے، یا طاقت کی وہ مرکزیت جو بادشاہتوں میں دیکھی جاتی ہے؟

ترمیم کا حقیقی اور سب سے خطرناک پہلو عدلیہ پر حملہ ہے۔ سپریم کورٹ کے اختیارات کم کر دیے گئے، اس کا سوموٹو اختیار تقریباً غیر مؤثر کیا گیا، حساس آئینی مقدمات کو ایک قابلِ کنٹرول آئینی عدالت کے سپرد کرنے کا راستہ ہموار کیا گیا، ججوں کے تبادلے اور تعیناتیوں کو سیاسی اثر و رسوخ کے دائرے میں لایا گیا، اور عدلیہ کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو براہِ راست سیاسی گرفت میں دینے کی کوشش کی گئی۔ یہ سب “علیحدگیِ اختیارات” کے بنیادی آئینی اصول کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ گویا ایک آزاد عدلیہ ریاست کے طاقتور عناصر کے لیے خطرہ بن چکی تھی، اس لیے اس کے ہاتھ پاؤں باندھنے کے لیے آئین ہی کو تبدیل کر دیا گیا۔

مزید بدنصیبی یہ ہے کہ اس ترمیم میں کچھ مخصوص شخصیات کو تاحیات آئینی استثنیٰ دے دیا گیا—وہ استثنیٰ جو نہ جمہوری اصولوں میں جائز ہے، نہ اسلام کے عدالتی نظام میں، نہ کسی مہذب ریاست کے قانون میں۔ آئین کہتا ہے کہ تمام شہری برابر ہیں، مگر یہ ترمیم اعلان کرتی ہے کہ کچھ لوگ قانون سے بالاتر ہیں۔ یہ رویہ کسی جمہوری ریاست میں نہیں پایا جاتا، یہ آمریت کا خاصہ ہوتا ہے—آمریت خواہ بوٹ پہن کر آئے یا جمہوریت کا ماسک لگا کر۔

پاکستان کا سیاسی سانحہ یہ ہے کہ ملک کی تقدیر ایسے ہاتھوں میں ہے جن پر کرپشن، ٹارچر سیل، تاوان، جعلی اکاؤنٹس اور قتل کی سازش جیسے سنگین مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔ آصف علی زرداری، جو اپنے خلاف چلنے والے مقدمات سے بچاؤ کے لیے دوبارہ صدر بنے، اس ترمیم کے روحِ رواں بنے۔ موجودہ حکومت چونکہ اُن کی پارٹی کے کندھوں پر کھڑی ہے، اس لیے انہوں نے سیاسی بلیک میلنگ سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اس ترمیم میں اپنے لیے تاحیات تحفظ شامل کروایا—جو آئینی، اخلاقی، مذہبی اور جمہوری ہر اصول کی توہین ہے۔ یہ فردِ واحد کو قانون سے اوپر کھڑا کرنے کی بدترین مثال ہے، جس کا انجام ہمیشہ ریاستی ڈھانچے کی تباہی کی صورت میں نکلتا ہے۔

اس ترمیم کے خلاف عدلیہ کے اندر سے جو احتجاج اٹھا وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عدلیہ کو مطیع بنانے کی کوشش کوئی مفروضہ نہیں۔ سپریم کورٹ کے دو ججز—جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ—اور لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شمس نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔ یہ وہ ججز تھے جو آزاد فیصلوں اور اصولی موقف کی وجہ سے حکومت کے “اچھے بچوں” کی فہرست میں شامل نہیں تھے۔ ان کا استعفیٰ ایک چیخ ہے—ایک فریاد—کہ عدلیہ کی عزت، آزادی اور وقار کو سیاست کے ہاتھوں نیلام کیا جا رہا ہے۔ جب ایک ملک میں ججز احتجاجاً استعفیٰ دینے لگیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ ریاست آئینی تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔

اس ترمیم نے ہر جج کو یہ پیغام دیا ہے کہ اگر تم نے طاقت کے سامنے سر اٹھایا، تو تمہیں تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے، دبایا بھی جا سکتا ہے، اور بے اختیار بھی۔ یہ زبان عوامی نمائندوں کی نہیں ہوتی، یہ آمریت کی ڈکشنری سے نکلتی ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف عدلیہ کی تذلیل ہیں بلکہ عوام کے اس حق کی بھی توہین جو انہیں ایک آزاد اور غیرجانبدار عدلیہ کی شکل میں ملتا ہے۔

مزید یہ کہ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ ترمیم وفاق کے اندر صوبوں کے حقوق کو کمزور کر کے مرکزیت کا ایک نیا بحران پیدا کر رہی ہے۔ 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو جو آئینی اختیارات ملے تھے، وہ اس ترمیم کے بعد غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔ ایک کمزور وفاق، ایک مضبوط مرکز، اور ایک محکوم صوبائی نظام پاکستان جیسے متنوع ملک کے لیے ہمیشہ تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔

آخر میں سوال بہت واضح ہے: کیا پاکستان ایک جمہوری ریاست رہے گا یا طاقتور اشرافیہ کے لیے آئینی کھلونا؟ کیا عدلیہ آزاد رہے گی یا سیاسی غلام؟ کیا قانون سب کے لیے ایک ہوگا یا چند مخصوص افراد کی ڈھال؟ اگر قوم آج خاموش رہی تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔
پاکستان کسی شہنشاہ کا نہیں—یہ 24 کروڑ عوام کا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں