113

سپریم کورٹ نے افغان شہری کو پاکستانی شہریت دینے کا پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا

اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)‌ سپریم کورٹ نے افغان شہری کو پاکستانی خاتون سے شادی کی بنیاد پر شہریت دینے سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کر دیا ہے۔

پاکستان اوریجن کارڈ (پی او سی) کے اجرا سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد اللہ عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ وفاق نے یکم دسمبر 2023 کے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ اگر کوئی افغان شہری کسی پاکستانی خاتون سے شادی کرے تو اسے پی او سی اور شہریت دی جا سکتی ہے، تاہم وفاقی حکومت کو شہریت دینے والے حصے پر اعتراض ہے۔

جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ شہریت کن بنیادوں پر دی جا سکتی ہے اور اب تک کتنے درخواست گزار ہیں؟ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اب تک 117 افغان شہریوں نے اس بنیاد پر درخواستیں دی ہیں۔ جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ “یہ تو وہ ہیں جو سامنے آئے ہیں، باقی معلوم نہیں کتنے ہوں گے۔”

نادرا کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ پاکستانی خاتون سے شادی کرنے والے افغان شہری کے لیے درست (ویلڈ) ویزا کی موجودگی لازمی ہے۔ اس پر جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ “یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کوئی شخص دروازے سے آیا یا دیوار پھلانگ کر داخل ہوا۔”

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں بعض حلقوں کی جانب سے توہینِ عدالت کی درخواستیں بھی دائر کی جا رہی ہیں۔

عدالتِ عظمیٰ نے تمام فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا اور کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں