کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) سندھ ہائی کورٹ بار کے تحت نئی نہروں کے قیام اور کارپوریٹ فارمنگ کے موضوع پر آل پاکستان وکلا کنونشن کا انعقاد
وکلا کنونشن میں صدر سپریم کورٹ بار رؤف عطا، سینیٹر ضمیر گھمرو سمیت ملک بھی سے بار ایسوسیشنز کے عہدیداران شریک
سابق ممبر پاکستان بار کونسل اختر حسین کا خطاب
دریاؤں پر زیریں علاقوں کے لوگوں کا بھی برابر حق ہے
ملک میں پانی کا مسئلہ سیاست کے ساتھ جڑا ہے
وفاق کے لئے تمام اکائیاں یکساں ہونی چاہیئے
ملک میں اسٹبلشمنٹ جاگیردارانہ نظام کو تحفظ فراہم کرتی ہے
پانی کا مسئلہ صوبوں کے درمیان نہیں بلکہ صوبے کے اندر بھی موجود ہے
طاقتور جاگیردار کو پانی مل جاتا ہے عام کسان محروم رہتا ہے
سندھ طاس معاہدے کے تحت دریا بھارت کو دیئے گئے
سندھ کا اعتراض یہ ہے کہ معاہدے پر عمل نہیں کیا جاتا
سندھ کی ہزاروں ایکڑ اراضی بنجر ہے
سرکاری زمینیں کو مقامی شہریوں کو دی جانی چاہیئے
ہم بھی کہتے ہیں زرعی اصلاحات ہونی چاہیئے
کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر سرکاری زمینیں ٹھیکے پر غیر ملکی کمپنیوں کو دیدی گئیں
صوبائی اسمبلیوں کو دریائے سندھ ہر نئی کنالز کے خلاف قراردادیں پیش کی جانی چاہیئے


